8

گوادر: سعودی-پاک تعاون کی نئی جہت-سبینہ صدیقی

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تزویراتی اتحاد کی نئی جہت ریاض کی طرف سے ملک کے بلحاظ رقبہ سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے بندرگاہی شہر گوادر میں سرمایہ کی منصوبہ بندی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔

تیل، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دلچسپی کے ساتھ سعودی عرب، پاکستان کے اس بندرگاہی شہر میں اب ایک اہم اسٹیک ہولڈر کے طور پر قدم جمانے کے لئے آمادہ وتیار ہے۔

دونوں ملک ماضی میں متعدد دوطرفہ، عالمی اور علاقائی فورمز بشمول اسلامی تعاون کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ پر کامیابی سے مل جل کر کام کر چکے ہیں۔ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان باہمی تعلقات بڑھوتری کی جانب گامزن ہیں۔

چین کے ’’بیلٹ اور روڈ‘‘ اقدام کی چھتری تلے ترقی کی منازل طے کرنے والا بندرگاہی شہر گوادر خطے کا صنعتی مرکز بننے جا رہا ہے۔ فری زون کے لئے موزوں ترین محل وقوع اور دنیا بھر تک برآمدی اشیاء کی نقل وحمل کی وجہ سے یہ علاقہ مستقبل کی برآمدی منڈی کا اہم سنگم بننے کی تمام خصوصیات کا حامل ہے۔ وسطی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور افریقا تک آسان رسائی کی وجہ سے گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور کو ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ اقدام میں نمایاں حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

گوادر بندرگاہ کا قدرتی پھیلائو اور گہرائی بڑے سے بڑے بحری جہازوں کو بآسانی لنگر انداز کرنے کے لئے آئیڈیل ہے۔ اپنی تکمیل کے بعد اس بندرگاہ سے سالانہ 300-400 ملین ٹن وزن کے مساوی باربرداری کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ ان حوالوں سے سعودی سرمایہ کاروں کے لئے گوادر شاندار موقع ہے۔

نہ صرف بلکہ چین گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے تیل حاصل کر سکتا ہے۔ گوادر پر تیل کو ٹینکروں سے اتار کر اسے پاکستان کے ذریعے چین کے دو افتادہ سرحدی صوبہ سینکیانگ تک پہنچا سکتا ہے۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ’’ایف ڈبلیو او‘‘ کے مطابق تیل کی ترسیل کے لئے گوادر سے چین کی سرحد تک پائپ لائن بچھانے پر دس ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ اپنے تزویراتی محل وقوع کی وجہ سے گوادر بندرگاہ بین الاقوامی سمندری سپلائی روٹ کے علاوہ سڑکوں کے بڑے جال اور توانائی کے متعدد منصوبوں سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ اقدام کی مستقبل میں گوادر سے اومان اور ریاض کے ذریعے افریقا تک توسیع بھی ایک قابل عمل آپشن ہے۔

اعلیٰ اختیاراتی سعودی حکام کا دورہ گوادر

رواں ہفتے سعودی عرب کے وزیر توانائی کے مشیر شیخ احمد الغامدی نے گوادر بندرگاہ کا دورہ کیا جس میں انھوں نے سرمایہ کاری کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی کونسل آف چیمبرز کے ارکان اور کاروباری افراد کی جانب سے اس ضمن میں کیا جانا والا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔

اہم سعودی وفد کو گوادر کے خصوصی اکنامک زونز کا دورہ بھی کرایا گیا۔ اس موقع پر انہیں تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ پاکستانی حکام نے مہمانوں کو اضافی مراعات اور سہولیات فراہمی کی بھی پیش کش کی۔

پاکستان میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے محسوس کیا کہ ’’ان کی حکومت اس ضمن میں جلد کوئی فیصلہ کرے گی۔‘‘ نواف سعید کا مزید کہنا تھا کہ ’’خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے درمیان ماضی میں ہونے والے مذاکرات کی روشنی میں سعودی سرمایہ کاری پاکستان میں معاشی استحکام کو فروغ دے گی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ملک عوام کی سطح پر احترام اور محبت کے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔‘‘

درایں اثنا جناب الغامدی نے انکشاف کیا کہ تیل، توانائی، کان کنی، بجلی، قابل استعمال توانائی کے متعدد سعودی منصوبے بلوچستان میں پہلے سے جاری ہیں اور تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ انھوں نے منصوبوں کے لئے ضروری سیکیورٹی اور سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

کئی دہائیوں سے سعودی عرب، پاکستان کو تیل اور پٹرولیم منصوعات برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک چلا آ رہا ہے۔ نیز یہ پاکستانی مصنوعات اور افرادی قوت کے لئے بڑی جاب مارکیٹ بھی ہے۔

سعودی ویژن 2030

سعودی عرب میں جاری دورس نتائج کی حامل معاشی اصلاحات کے پروگرام ’’وژن 2030‘‘ کے تحت دو طرفہ تعاون کو دیکھتے ہوئے پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ وہ مملکت میں پیدا ہونے والے ہر امکان کو کشید کر سکے جو آگے چل کر بھنور میں پھنسی اس کی معیشت کو سنبھالا دینے میں مددگار ثابت ہو۔

جہاں تک سعودی عرب کا معاملہ ہے تو گوادر میں سرمایہ کاری سے “وژن 2030” کی روشنی میں معیشت میں تنوع آئے گا جس سے مملکت کا تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کم ہو گا۔

اس شراکت کاری کی عمل صورت بیان کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر پیٹرولیم غلام سروس خان نے کہا کہ ’’پاکستان سٹیٹ آئل [پی ایس او] اور سعودی تیل کمپنی [آرامکو] گوادر میں نئی آئل ریفائنری میں سرمایہ لگائیں گے۔ ’’اس ضمن میں ہم نے ابتدائی مذاکرات مکمل کر لئے ہیں۔ دونوں ملکوں درمیان اصولی فیصلہ ہو گیا ہے کہ یہ معاہدہ حکومتوں کے درمیان ہو گا۔‘‘

عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے گوادر شہر کی تعمیر کا کام تیز کر دیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے فوائد جلد حاصل کئے جا سکیں۔ بیک وقت گوادر آئل سٹی کی تعمیر کی جائے گی جس کے بعد تیل اور گیس کی تلاش کا کام شروع ہو گا تاکہ معیشت کی بہتری کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور پراسسنگ شروع ہو سکے۔

گوادر میں اسی ہزار ایکٹر پر محیط میگا آئل سٹی نے جب اپنا کام شروع کر دیا تو اس کے بعد خلیج سے چین کو تیل کی ترسیل تیز کی جا سکے گی۔ اس روٹ کے اختیار کرنے سے تیل کی ترسیل کا وقت چالیس دنوں سے کم ہو سات دن رہ جائے گا۔

گوادرکا تزویراتی محل وقوع عالمی تجارتی ٹریفک میں سعودی عرب کی شرکت کو مہمیز دلا سکتا ہے۔ چین دنیا میں تیل استعمال کرنے والا بڑا ملک ہے ایسے میں سعودی عرب کی گوادر میں موجودگی تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے مفید ہو گی

https://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2019/01/08/asd.html

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں