7

پاکستان اور سعودی عرب : ایک نئے دور کی صبح کا آغاز-عدنان حسن

تزویراتی وجوہ کی بنا پر دنیا بھر میں ممالک بالعموم ایک دوسرے کے ساتھ اپنی خصوصی تعلق داری کا اظہار کرتے ہیں۔اس ضمن میں ثقافتی ، مذہبی ، جغرافیائی سیاسی اور دوسرے تعلقات کا حوالہ دیا جاتا ہے اور یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ دونوںملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور وہ باہم کیسے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔قائدین کرام باہمی تعلقات کے حوالے سے تقریریں کرتے ہیں اور آپس میں تحائف کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔بد قسمتی سے بعض کیسو ں میں اس اعلامیے کے باوجود سرد مہری کے بھی جذبات پائے جاتے ہیں لیکن جب جذبات میں گرم جوشی آتی ہے تو یہ سرد مہری عنقا ہوجاتی ہے۔

ممالک کے درمیان تعلقات میں یہ اتار چڑھاؤ بہت سوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔بالخصوص سرمایہ کاروں کے لیے،انھیں اپنے منصوبوں میں پیشین گوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پالیسی ساز تعلقات میں کیسے استحکام لاسکتے ہیں؟وہ دوطرفہ تعلقات کو کیسے پائیدار بنا سکتے ہیں؟وہ ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں کیسے وسعت اور گہرائی پیدا کرسکتے ہیں؟

کاروباری حضرات (انٹر پرینیور ) ہی اس کا جواب دے سکتے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب

جہاں تک اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا معاملہ ہے تو یہ بالعموم مستحکم ہی رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات پر مبنی انتہائی قریبی ، گرم جوش اور دوستانہ تعلقات استوار ہیں لیکن دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی تعلقات کی طویل اور کامیاب تاریخ کے باوجود پاک سعودی تعلقات کی نوعیت سطحی اور ضرورت پر مبنی رہی ہے۔ان میں جغرافیائی سیاسی سلامتی پر زیادہ تر توجہ مرکوز رہی ہے اوراس کو پاکستان کی جانب سے تارک ِوطن مزدوروں کی سعودی عرب برآمد اور حج اور عمرے کی ادائی کے لیے جانےو الوں اور دوسری جانب سعودی عرب سے پاکستان کی فراخدلانہ امداد سے تقویت ملتی رہی ہے۔

تاریخ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اگر ہمہ جہت اور ہشت پہلو بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں اور اس میں ’’اضافی قدر‘‘ بھی شامل کردی جائے تو ریاستوں کے درمیان تعلقات زیادہ مضبوط ہوسکتے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ تعلقات ممالک کے درمیان تعاون کے مکمل امکانات کو مربوط اور یک جا کرتے ہیں اور پھر ان کے درمیان معاملہ صرف ’ایک جمع ایک برابر دو‘ تک محدود نہیں رہتا ہے۔اس کی تکمیل اور تعلقات میں گہرائی کے لیے مختلف عناصر کو سخت کام کی ضرورت ہے۔ ان میں ایک اہم عنصر تجارتی تعلق داری ہے اور یہ دونوں ممالک کے کاروباری طبقے اور نجی شعبے کے دوسرے ارکان کے درمیان قائم کیا جاسکتا ہے۔اس تعلق داری کو جہاں ممکن ہو ، تزویراتی مفادات سے مضبوط کیا جانا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف کمیشن ، کونسلیں اور تجارتی ادارے وغیر ہ قائم ہیں لیکن ان میں زیادہ تر کامیاب نہیں رہے ہیں۔اس کی کئی ایک وجوہ ہیں اور ان میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نچلی سطح تک کوششوں پر توجہ مرکوز ہی نہیں کی گئی ہے اور یہ اس نظریے پر منحصر رہے ہیں کہ اقتدار میں کون ہے؟ حقیقی کاروباری سوچ کو بھی بروئے کار نہیں لایا گیا ہے۔بعض کیسوں میں ذمے دار سفارت کاروں اور بیورو کریٹس نے نجی شعبے کی شرکت کے فروغ کی بات ضرور کی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت سے افسر کاروباری نہیں ہیں۔بعض کیسوں میں تو ان میں سے بعض نے منافع کے محرکات کے بارے میں بھی اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک سازگار ماحول پیدا کرسکتے ہیں لیکن وہ حقیقی تجارت اور کاروبار کا پہیّا نہیں چلا سکتے ہیں۔

دونوں ممالک میں وقت تبدیل ہورہا ہے ۔ان نئے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بنیادی اساس پر نظرثانی کی جائے اور اس کو وسیع کیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے بعد اب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان کا آیندہ دورہ دوطرفہ تعلقات کی گرم جوشی کا مظہر ہے۔

دونوں لیڈر اپنے اپنے ملک کے ایک نئے مستقبل کے لیے جامع اصلاحات پر مبنی تبدیلی کے وژن کے چیمپئن ہیں ۔عمران خان ’’ نیاپاکستان‘‘ تعمیر کررہے ہیں اور محمد بن سلمان وسیع تر اصلاحات کے حامل وژن 2030ء پر عمل پیرا ہیں۔اب دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان بات چیت امداد کے بجائے سرمایہ کاری پر ہورہی ہے۔یہ اور بات ہے کہ یہ ابھی تک ریاست سے ریاست میں سرمایہ کاری اور یک طرفہ ہے۔اس توانا ماحول میں تعمیری تعلقات کے فروغ کے لیے اب یہ وقت ہے کہ ان ’’آؤٹ آف باکس‘‘ نظریات کے بارے میں بھی سوچا جائے جن سے دونوں ممالک کے عوام کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر استفادہ کیا جاسکے۔

کاروباری طبقے کے مراسم

جیسا کہ سطورِ بالا میں ذکر کیا گیا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعامل سلامتی ، کم لاگت لیبر ، عازمین حج وعمرہ ا ور امداد کے ارد گرد ہی گھومتا رہا ہے لیکن پاکستانی اور سعودی شہریوں کے درمیان بھرپور پیشہ ورانہ باہمی تعامل بھی موجود ہے۔یہ مالیات ، ٹیکنالوجی ، انجنئیرنگ ، مشاورت ( کنسلٹنگ) اور ادویہ وغیر ہ کے شعبوں میں موجود ہے۔ یہ پیشہ ورانہ تعامل دونوں ممالک کے نوجوانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہ خلیج اور مغرب میں ایک دوسرے سے رابطے کرتے ہیں یا رابطے میں ہوتے ہیں۔

ان دونوں خطوں میں سعودی عرب اور پاکستان کی اگلی نسل زیرِ تعلیم وتربیت ہے۔ان میں تعاون کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں لیکن ابھی تک ان کی صلاحیتوں اور دستیاب مواقع سے کما حقہ استفادہ نہیں کیا جاسکا ہے۔نسلِ نو کو نئے عالمی معیارات کے مطابق تیار کیا جانا چاہیے اور انھیں معیار کی اعلیٰ توقعات پر پورا اُترنا چاہیے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرکاری شعبے میں سرگرمی کے علاوہ نجی شعبے میں تعاون کے مواقع پر توجہ مرکوز کرنے اور ان کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے ڈیل پر مبنی حکمتِ عملی کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے کاروباریوں کی نئی نسل کو بھی میز پر لایا جانا چاہیے۔ان میں عالمی سطح پر پہچان کے حامل اور پیشہ ورانہ لحاظ سے مانے ہوئے مردو خواتین شامل ہونے چاہییں۔ان میں ممکنہ طور پر وہ پاکستانی اور سعودی شامل ہوسکتے ہیں ، جو بیرون ملک زیر تعلیم رہے ہیں یا اپنے ملکوں سے باہر کاروبار کے تجربے کے حامل ہیں۔

جو لوگ مل جل کر منافع کماتے ہیں ، وہ باہم اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ایک منفرد حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ پاکستانی اور سعودی مرد وخواتین کی ایک دو سے تین روزہ کاروباری کانفرنس بلائی جائے۔اس میں ان کے درمیان تبادلہ خیال ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں نئے نئے خیالات اور تجاویز کو منظرعام پر لانے کے لیے اس طرح کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس طرح کی کاروباری ہیکاتھن کی پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ انٹرپرینور فنڈ سے مالی معاونت کی جاسکتی ہے۔اس طرح کے فنڈ سے بنک کی طرح کے مواقع سے مختلف کاروباروں کے لیے سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ ایسے فنڈ کی پاکستانی اور سعودی کاروباری طبقے کو دوسرے ملک سے اپنے ایسے طبقے کو مجوزہ کاروباری آئیڈیاز پر عمل درآمد میں ساتھ ملانے کے لیے ضرورت ہوگی ۔

ایسے مواقع سے استفادے کے لیے ’’ شارک ٹینک‘‘ طرز کے ریالٹی ٹی وی شو کا انعقاد کیا جاسکتا ہے جہاں سرمایہ کار مواقع کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر وہ بہترین آئیڈیاز پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اس کا مقصد ایسے مواقع پیدا کرنا ہے جس سے دونوں ممالک کے کاروباری افراد فائدہ اٹھا سکیں ۔ حتیٰ کہ ان سے کوئی تیسرا ملک بھی استفادہ کرسکتا ہے۔اس طرح کی حکمتِ عملی سے کاروباری طبقے کی صلاحیت کو مربوط کیا جاسکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام کو وسعت اور گہرائی عطا کی جاسکتی ہے۔ اس سے ’’ نیا پاکستان‘‘ اور ’’ وژن 2030‘‘ کی بھی حمایت ہوتی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا آیندہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی ایک نئی صبح کی نوید ہونا چاہیے۔کاروباری شراکت داری کے ذریعے ہم اپنے تعلقات کو ضرورت کی تحدید سے مواقع کے کھلے پن تک لے جاسکتے ہیں۔ اب کچھ کر گزرنے کا وقت آچکا ہے۔ 
______________________

عدنان حسن ایک کثیر پہلو شخصیت ہیں۔ وہ سرمایہ کار ، مشیر ، لکھاری اور کاروبار ی ہیں۔وہ واشنگٹن میں عالمی بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ عالمی سطح کی سرمایہ کار اور مشاورتی فرم میکاسا ایڈوائزرز یورپ ،بی وی کے بانی چیئرمین ہیں۔

https://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2019/02/11/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%AF%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D8%A8%D8%AD-%DA%A9%D8%A7-%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2-.html

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں