9

پاکستان کیلئے سعودی عرب کا ریکارڈ سرمایہ کاری پیکیج تیار: اے ایف پی

پیکج ریاض کی جانب سے اسلام آباد میں کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی

سعودی عرب کی جانب سے ریکارڈ سرمایہ کاری پیکیج تیار کر لیا گیا ہے جو کہ ممکنہ طور پر مالی بحران کے شکار برادر اسلامی ممالک کے لیے ریلیف کا باعث ہو گا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے علاقائی جیو پولیٹیکل چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں سب سے اہم گوادر پورٹ پر تیل کی ریفائنری اور آئل کمپلیکس میں ۱۰ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔

سعودی عرب کے دو ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ کو تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 16 فروری کو اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔ دونوں ممالک کے حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ دہائیوں پرانے اتحادی ریاض اور اسلام آباد سعودی ولی عہد کے دورے سے قبل ان معاہدوں کی تفصیلات پر کئی ماہ سے مذاکرات میں مشغول رہے ہیں۔

پاکستانی وزیر خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مذاکرات انتہائی مثبت رہے اور یہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں اب تک کی سب سے بڑی کی جانے والی سرمایہ کاری ہو گی۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ ہمیں سعودی ولی عہد کے آنے والے دورے سے اسی طرح کے معاہدے کی توقع ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل نے گذشتہ ماہ رپورٹ کیا تھاکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت، جو کہ مشرق وسطی میں پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو 30 ارب ڈاکر کی سرمایہ کاری اور قرضوں کی پیشکش کی تھی۔ سعودی ماہر معیشت فہد کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری پاکستان کی زبوں حالی کا شکار معیشت کیلئے ایک لائف لائن کا باعث بن سکتی ہے۔

فروری کے اول میں ریٹینگ ایجنسی ایس ینڈ ہی نے پاکستانی معیشت کی ریٹنگ اے بی سے بی مائنس کر دی تھی۔البونیان نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری پاکستانی معیشت کیلئے ایک امدادی پیکیج ہو گا جس کا مقصد پاکستان پر بیرونی قرضوں کے دباو اور بیرون ملک زرمبادلہ کے دخائر میں کمی کو پورا کرنا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ معیشت کی بحالی میں بھی کردار ادا کریگا۔ان کا کہنا تھا کہ اوپیک کے اہم رکن سعودی عرب کی جانب سے تیل کی ریفائنری اور اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا مقصد اسٹریٹیجک اور کمرشل اہداف حاصل کرنا ہے۔سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی متحدہ عرب امارات کی جانب سے پہلے ہی پاکستان کے مرکزی بینک میں 3ارب ڈالر کی رقم جمع کروائی جا چکی ہے تا کہ اس کے ذریعے ادائیگیوں کے توازن اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو مستحکم کیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تیل کی برآمدات کی ادائیگیوں کیلئے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی رقم دیں گے۔ سعودی ماہر معیشت فہد البونین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کاایک ہدف یہ بھی ہے کہ وہ دنیا بھر میں ریفائننگ میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دینا چاہتا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر کسی مسابقت کی صورت میں تیل کی برآمدات میں اپنا مارکیٹ شیئر بچانے میں کامیاب رہے۔

سعودی عرب میں توانائی کے وزیر الخالد الفالح نے جنوری میں گوادر پورٹ کے دورے کے موقع پر تیل کی ریفائنری اور پیٹروکیمیکلز کمپلیکس کیلئے ۱۰ ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔سعودی عرب تیل کی دیگر سپلائرز کی طرح دنیا بھر میں ریفائنری اور پیٹروکیمیکلز کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر سے چین تک پائپ لائن کی تعمیر سے سپلائی کی مدت 40 روز سے کم ہو کر صرف 7روزتک ہو جائے گی۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے تعمیر کردہ گوادر پورٹ مستقبل میں ایک انڈسٹریل حب ہو گا جس سے وسطی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطی اور افریقا تک رسائی آسانی سے ہو گی۔ البونین کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ساتھ پاکستان سرمایہ کاری کیلیے ایک تیسرے امیر پارٹنر کی شمولیت کا بھی خواہاں ہے جو اس کی رقوم کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو ۔ لیکن سنگاپور کے راجرتنام اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر رکن جیمز ایم ڈورزے کا کہنا ہے کہ تاحال چین اقتصادی راہداری تک دیگر شراکت داروں کی شمولیت کی مخالفت کر رہا ہے جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر میں سعودی عرب کی طرف سے کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری کے جیو پولیٹکل اثرات ہوں گے۔

ایران نے گزشتہ برس چاہ بہار بندرگاہ کا افتتاح کیا تھا جو خشکی میں گرے افغانستان کے لیے سپلائی کی خاطر اہم روٹ ہو گا اور بھارت کو افغانستان جانے کےلیے اپنے سخت حریف پاکستان کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ بھارت، افغانستان تک اپنی سپلائی وسطی ایشیا اور افریقا تک اپنی تجارت قائم کرنے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ تاہم ریاض کسی بھی قسم کی انڈیا پاکستان دشمنی میں شامل نہیں ہو نا چاہتا۔

سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل توانائی کے معاہدے کر رکھے ہیں جہاں تیل کی طلب تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب مغربی بھارت میں بھی بڑی ریفائنری اور پیٹروکیمیکلز کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 44 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں