16

دنیاوی زندگی کے لیے سنہری اصول – خطبہ جمعہ مسجد نبوی-شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 03جمادی الثانی 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں “دنیاوی زندگی کے لیے سنہری اصول” کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ عمر، رزق، سعادت و شقاوت سمیت زندگی کے تمام تر معاملات لکھے جا چکے ہیں ان کو تسلیم کرنا انسان کے لئے سکون کا باعث ہے، اگر ان پر انسان راضی بھی ہو تو یہ رضائے الہی کا موجب ہے۔ راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان حلال طریقے سے روزی کمائے غلط راستے پر مت چلے اور ہمیشہ اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھے، اگر کوئی تکلیف بھی پہنچے تو اللہ کے حکم پر راضی رہے۔ اس کائنات کی ہر ذی روح چیز کے رزق کی ذمہ داری اللہ تعالی نے لی ہوئی ہے، وہی تنگ یا فراخ روزی ہر چیز کو دیتا ہے اور روزی کی ہر دو قسم اللہ کی جانب سے آزمائش ہوتی ہیں، چنانچہ ان پر بالترتیب صبر شکر سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تقوی زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجی ہے، حرکت کرنے سے برکت ملتی ہے، اور انسان کو ہمیشہ خود داری سے کام لینا چاہیے، تلاش معاش کے لئے جد و جہد انبیائے کرام کی سنت ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیاوی زندگی عارضی دکھ سکھ سے بھر پور ہے، جبکہ اخروی زندگی دائمی سکھ یا ابدی دکھ پر مشتمل ہو گی اس لیے آخرت کی تیاری کرو، اور دنیا اور لوگوں کی دولت سے بے رغبت ہو جاؤ تو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور لوگ بھی تم سے محبت کریں گے، آخر میں انہوں نے سب کے لئے دعا کروائی۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ، نیز نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، بقا اور حمد و ثنا اسی کے لئے ہیں، اسی کے ہاتھ میں تقدیریں اور فیصلے ہیں، آسمان سے زمین کے معاملات چلاتا ہے، جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کی مشیئت کے بغیر؛ فقط تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے پیغام رسالت کی تبلیغ کر دی، امانت پہنچا دی، اور امت کی خیر خواہی فرمانے کے ساتھ ساتھ راہ الہی میں کما حقہ جہاد بھی کیا یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

بہترین کلام ، اللہ کا کلام ہے، اور بہترین سیرت جناب محمد ﷺ کی سیرت ہے، بد ترین امور بدعات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو!

احکامات الہیہ کے متعلق تقوی اپناؤ، اللہ کے منع کردہ کاموں سے بچو، اور یہ بات ذہن نشین کر لو کہ تمہاری ہر چھوٹی بڑی حرکت لکھی جا رہی ہے۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں ہی آئے۔[آل عمران : 102]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی نے تقدیریں لکھ دی ہیں، زندگیاں مقرر کر دی ہیں اور رزق بھی تقسیم کر دیا ہے، بلکہ سعادت اور شقاوت میں سے ہر ایک کا حصہ بھی لکھ دیا ہے، ہر ایک کے حصے کی مسرت و خوشی، تنگی اور ترشی بھی لکھ دی ہے۔ اب جو اس تقسیم پر راضی رہے تو وہ رضائے الہی کا مستحق ہے، اور اس سے ناراض شخص اللہ کی ناراضی کا مستحق ہے۔ ہر چیز قضا و قدر کے مطابق رونما ہوتی ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی اولادِ آدم کا رزق اسی وقت لکھ دیتا ہے جب وہ عالم ارحام میں ہوتی ہے؛ چنانچہ جب انسان اپنی ماں کے پیٹ میں چار ماہ مکمل کرتا ہے تو اللہ تعالی رحم پر مقرر فرشتے کو بھیجتا ہے، یہ فرشتہ اللہ کے حکم سے روح پھونک کر اس کی عمر، عمل، رزق ، اچھا برا بخت بھی لکھ دیتا ہے۔

جیسے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے، پھر اتنے ہی وقت تک منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی ایک فر شتہ بھیجتا ہے۔ اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ : اس کا عمل، رزق اور عمر لکھ دے اور یہ بھی لکھ دے کہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت ۔) متفق علیہ

لہذا رزق تقسیم ہو چکا ہے، ہر چیز کا وقت مقرر کر دیا گیا ہے، اس لیے تلاش معاش کے لئے اچھا طریقہ اپناؤ، روزی کمانے کے لئے اللہ سے مدد مانگو، اور اللہ سے اچھا گمان رکھو؛ کیونکہ بد گمانی مذموم بھی ہے اور بے سود بھی۔ جبکہ بندہ اللہ تعالی سے اچھا گمان رکھے تو مراد پا لیتا ہے، چنانچہ تم اچھا گمان رکھو، اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہو۔ اپنے آپ کو لالچ، حرص اور شدید ہوس سے بچاؤ۔ ہر قسم کے برے طور طریقے سے دور رہو؛ کیونکہ یہ بیوقوفی اور توانائی کا ضیاع ہو گا۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ مت کہو کہ کاش میں ایسے اور ایسے کر لیتا! بلکہ یوں کہو کہ: جو اللہ کا حکم تھا وہی اللہ نے کر دکھایا۔

اللہ کے بندو!

اللہ کی ذات ہی دینے والی ہے، وہی رزاق ہے، اس کے دونوں ہاتھ فراخ ہیں وہ جیسے چاہے عطا کرتا ہے، اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی، وہ دن رات نوازتا رہتا ہے۔

جیسے کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث قدسی بیان کی کہ: (اللہ تعالی فرماتا ہے: “میرے بندو! میں نے ظلم اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں، اس لیے مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، اس لیے مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو! تم سب کے سب برہنہ ہو، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہذا مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں ہی سب کے سب گناہ معاف کرتا ہوں، سو مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہارے گناہ معاف کروں گا۔ میرے بندو! تم کبھی مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھو گے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو، نہ کبھی مجھے فائدہ پہنچانے کے قابل ہو گے کہ مجھے فائدہ پہنچا سکو۔ میرے بندو! اگر تم سے پہلے گزر جانے والے اور تمہارے بعد آنے والے سب انسان اور جن کسی ایک انتہائی متقی انسان کے دل کی طرح ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ میرے بندو! اگر تم سے پہلے گزر جانے والے اور تمہارے بعد آنے والے سب انسان اور جن کسی ایک انتہائی فاجر آدمی کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ میرے بندو! اگر تم سے پہلے گزر جانے والے اور تمہارے بعد آنے والے سب انسان اور جن کسی کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دوں تو بھی اس سے میرے خزانے میں اتنی کمی ہو گی جو سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے ہوتی ہے، میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کر رہا ہوں، پھر تمہیں ان کا پورا بدلہ ملے گا، چنانچہ جسے اچھا بدلہ ملے تو وہ اللہ کی حمد بیان کرے اور بصورت دیگر اپنے آپ کو ہی ملامت کرے”) مسلم(2577)

اللہ کے بندو!

بلا شبہ اللہ تعالی نے رزق کی یقینی ذمہ داری لیتے ہوئے فرمایا: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہ اس کے رہنے اور دفن ہونے کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ یہ سب کچھ واضح کتاب میں لکھا ہوا موجود ہے [هود: 6] اس لیے اللہ تعالی جنین کو ماں کے پیٹ میں، مچھلیوں کو سمندروں میں اور سانپوں کو ان کے بلوں میں رزق دیتا ہے، اللہ نے ایسی مخلوق پیدا ہی نہیں کی جو ضائع ہو گئی ہو، اگر کوئی شخص اپنی روزی سے بھاگے بھی تو روزی اس تک پہنچ جائے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ} اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم کر دیتا ہے [العنكبوت: 62]

مسلمانو!

اللہ تعالی رزق دے کر امتحان لیتا ہے؛ چنانچہ فراخ روزی اس لیے دیتا ہے کہ الحمد للہ کہیں اور اللہ کا شکر بجا لائیں، نیز اللہ تعالی بھول کر یا تنگ دستی کی وجہ سے روزی کم نہیں کرتا بلکہ آزمانے کے لئے کرتا ہے؛ اس لیے ایسے وقت میں صبر لازمی امر ہے۔

اگر کسی کو فاقہ کشی کا سامنا ہو اور وہ اسے غیر اللہ پر ڈال دے تو اس کی فاقہ کشی دور نہیں کی جاتی، ایسی حالت میں سوال سے کترانے والے کو اللہ بچا لیتا ہے۔ اور تونگری طلب کرنے والے کو غنی فرما دیتا ہے۔ اسی طرح صبر کرنے والے کو اللہ تعالی صبر کی توفیق بھی دیتا ہے۔

اس لیے فاقہ کشی، تکلیف، مہنگائی، اور آزمائشوں میں صبر کرنا شرعی طور پر واجب ہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ تعالی نے انسان کو ایسی حالت میں ڈانٹ پلاتے ہوئے فرمایا: {فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ (15) وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ} انسان کا یہ حال ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی [15] اور جب اسے آزمائش میں ڈال کر اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [الفجر: 15، 16]

اللہ کے بندو!

تقوی الہی انسان کے لئے بہترین کمائی ہے، یہ انسان کے لئے ہر تنگی اور پریشانی سے نکلنے کا باعث بنتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} اور تقوی اپنانے والے کے لئے اللہ نجات کا راستہ بنا دیتا ہے [02] اور اسے وہاں سے روزی دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق: 2، 3]

تقوی الہی آسمان و زمین کے خزانوں کی کنجی ہے، اور نافرمانی کر کے اللہ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا۔ [الأعراف: 96]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے زندگی اور موت کو اس لیے پیدا کہ وہ تمہارا امتحان لے کہ کون تم میں سے اچھی کارکردگی والا ہے۔ اور اللہ تعالی نے باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میں بہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی بنائیں ہیں۔

درود و سلام نازل ہوں ہمارے نبی جناب محمد ﷺ پر، آپ تمام لوگوں سے بھی بہترین کردار اور گفتار کے مالک تھے، آپ کی آل، صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی روزِ قیامت تک درود و سلام نازل ہوں۔

اللہ کے بندو!

 حرکت میں برکت ہے۔ بہترین روزی اپنے ہاتھ کی کمائی ہے۔ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ سفید پوشی ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے۔ خود داری انسان کو معزز بناتی ہے ، اس سے انسان محفوظ اور حاوی رہتا ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی اپنی رسی اٹھائے اور اپنی کمر پر لکڑیاں جمع کر کے فروخت کرے یہ اس کے لئے کسی کے پاس جا کر مانگنے سے بہتر ہے؛ کہ اس کی مرضی دے یا نہ دے) بخاری

اللہ کے نبی موسی علیہ السلام نے اجرت پر بکریاں چرائیں، اللہ کے نبی زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے، اور اللہ کے نبی داود علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے، ہمارے نبی جناب محمد ﷺ نے بھی اہل مکہ کی چند قیراط کے عوض بکریاں چرائیں۔ کسی کے لئے بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں۔ روزی کمانا عزت اور نکماپن ذلت ہے، {هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ}  وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ہموار بنایا، اب اس کے راستوں میں چلو اور اس کا رزق کھاؤ، اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ [الملك: 15] ایک اور مقام پر فرمایا: {فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ} زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ [الجمعة: 10] اللہ تعالی پر مکمل بھروسا رکھو؛ کیونکہ اللہ پر بھروسا کرنے والے کے لئے اللہ ہی کافی ہے، اور جو چیز تم سے چوک جائے اس پر افسوس نہ کرو ۔ اور جو چیز تمہیں اللہ سے مل جائے اس پر شیخی نہ مارو۔

مسلم اقوام!

دنیا زوال پذیر اور فانی ہے، آخرت کا گھر حقیقی حیات ہے۔ زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، دنیا تو کھیل تماشا ہے، یہ جلدی سے گزر جانے والی اور بہت زیادہ بدلنے والی ہے، یہاں ایک حالت قائم نہیں رہتی، دنیاوی زندگی دن اور رات سے بھی زیادہ بدلتی ہے۔ دنیا اپنے چاہنے والوں کو دھنسا دیتی ہے اور سامنے آ کر ڈرا دیتی ہے، دنیا رلاتی بھی ہے اور ہنساتی بھی ہے، یہاں دکھ سکھ، ترقی و تنزلی سب ہے۔ دنیا خوشی غمی، فرحت و حسرت، عیش و عشرت، غم و الم، کھیل تماشا، زیب و زینت اور کثرت دولت پر فخر کا نام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} جان لو کہ دنیا کی زندگی ایک کھیل، تماشا، زینت، فخر کا باعث اور تمہارا آپس میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر کثرت جتلانے کی کوشش کرنا ہے، اس کی مثال بارش سے پیدا ہونے والی نباتات جیسی ہے جسے دیکھ کر کاشت کار خوش ہوتے ہیں پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو کر بھس بن جاتی ہے اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب، اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی بھی ہے، دنیا کی زندگی دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ [الحديد: 20]

اولاد آدم کا دنیا میں وہی حصہ حقیقی ہے جسے اس نے توشہ آخرت بنا دیا، یا کھا کر نکال دیا، یا پہن کا بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔

اس لیے اللہ کے بندے! دنیا میں ایسے رہو کہ گویا تم اجنبی ہو یا راہ گزرتے مسافر ہو، متاعِ دنیا قلیل ہے، جبکہ آخرت متقی لوگوں کے لئے بہتر ہے، اور وہی باقی رہنے والی بہترین زندگی ہے۔

دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کی دولت پر نظر مت رکھو، لوگ بھی تم سے محبت کرنے لگے گیں۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

ہم سب کی دنیا عنقریب ہی ختم ہو جائے گی اور آخرت شروع ہو جائے گی۔ ان دونوں کے الگ الگ چاہنے والے ہیں؛ تو تم آخرت کو چاہنے والے بنو، دنیا کے رسیا مت بننا؛ کیونکہ آج عمل کا موقع ہے حساب نہیں ہے، کل حساب ہو گا تو عمل کا موقع نہیں ہو گا۔

فحيَّ عَلَى جَنَّاتِ عَدنٍ فإنَّها
مَنازِلُنَا الُأولَى وفِيها المُخَيَّمُ
جنات عدن کی طرف آ جاؤ بیشک وہ ہماری پہلی منزل ہے، وہاں خیمے بھی لگے ہوئے ہیں۔
فَيَا بَائِعًا هَذَا بِبَخسٍ مُعَجَّلٍ
كَأنَّك لاَ تَدرِي بَلَى سَوفَ تَعلَمُ
اس کو گھاٹے میں فروخت کرنے والے، لگتا ہے تمہیں اس کا ادراک نہیں ہے، تمہیں اس کا علم ہو جائے گا۔
فَإن كُنتَ لاَ تَدرِي فَتِلكَ مُصِيبةٌ
وإن كُنتَ تَدرِي فالمُصِيبةُ أعظَمُ
تو اگر تمہیں اس کا واقعی علم نہیں تو یہ پریشانی والی بات ہے اور اگر علم ہے تو پھر بہت زیادہ پریشانی کی بات ہے۔

یا اللہ! دنیا کو ہمارا سب سے بڑا ہدف مت بنانا، نہ ہی ہمارا علم دنیا تک محدود رکھنا، نہ ہی جہنم ہمارا ٹھکانا بنانا۔ یا اللہ! جنت ہمارا اخروی گھر اور ٹھکانا بنا دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے جنت ہمارا اخروی گھر اور ٹھکانا بنا دے۔ یا رب العالمین!

اے اللہ! ہمیں ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، ہمیں عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، ہماری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے ہمیں محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا ۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! دونوں کو ملک و قوم کی ترقی اور بہتری کے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں