19

منبعِ بصیرت؛ فہم کتاب و سنت – خطبہ جمعہ مسجد نبوی – شفقت الرحمن مغل

فضیلۃ الشیخ جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 21 جمادی اولی 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان “منبعِ بصیرت؛ فہم کتاب و سنت” ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ دینی بصیرت انتہائی عظیم اور اعلی ترین نعمت ہے، بصیرت کتاب و سنت کے صحیح فہم کا نام ہے، مخلوق کی اطاعت میں اللہ کی نافرمانی ہو تو اس سے گریز کرنا بصیرت ہے، دین الہی پر استقامت بصیرت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بصارت صحیح ہو لیکن بصیرت نہ ہو تو انسان کو کچھ فائدہ حاصل نہ ہو گا، جبکہ بصیرت نورِ کتاب و سنت سے منور ہو تو آنکھوں کا اندھا پن نقصان دہ نہیں، رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد بصیرت بھی تھا، اور کلمہ توحید کے ذریعے انسان کو بصیرت عطا ملتی ہے، اسی لیے قرآن کریم کے مطابق کافروں میں بصیرت نہیں پائی جاتی، جبکہ اہل ایمان بصیرت سے معمور ہوتے ہیں، آخر میں انہوں نے حصول بصیرت کے لئے فہم کتاب و سنت کی ترغیب دلائی اور پھر تمام لوگوں کے لئے دعائیں کیں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اسی نے دینی بصیرت رکھنے والوں کا رتبہ بلند فرمایا، انہیں دین کا محافظ اور اعلی اقدار کا عملی نمونہ بنایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے وہ ہمیشہ جہنم میں ذلیل و رسوا ہو گا۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جس کے مقتدا اور امام آپ ﷺ ہیں وہ کامیاب ہو گیا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام پر دائمی رحمتیں ، برکتیں اور تسلسل کے ساتھ سلامتی نازل فرمائے ۔

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو ؛ کیونکہ متقی کامیاب ہوں گے اور حد سے تجاوز کرنے والے بد بخت تباہ و برباد ہوں گے، {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام پر۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی کی جلیل القدر نعمتوں اور احسانات کی مالا میں دینی بصیرت بھی شامل ہے ۔

بصیرت: عقیدہ توحید اپنانے ،شرک سے بیزاری اور اللہ کی نافرمانی کی صورت میں مخلوق کی اطاعت نہ کرنے کا نام ہے۔

بصیرت: دین الہی پر یقین محکم اور عمل پیہم کا نام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ} آپ کہہ دیں: یہ میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار علی وجہ البصیرت اللہ کی دعوت دیتے ہیں، اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ [يوسف: 108]

بصیرت: فطانت کا نام ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے: آنکھوں کا نور ختم ہو بھی جائے تو بصیرت کی روشنی ختم نہیں ہوتی۔

بصیرت: اللہ تعالی کی طرف سے دل میں ڈالا جانے والا نور ہے، یہ حق و باطل ، خیر و شر ، نیکی اور بدی میں تفریق کرتا ہے۔

مسلمانو!

نابینا بصیرت ؛ نابینا بصارت سے کہیں زیادہ سنگین، گراں اور ابتر شمار ہوتی ہے کیونکہ نابینا بصیرت حقیقی اندھا پن ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ} کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہو جاتے جو کچھ سمجھتے سوچتے اور کان ایسے جن سے وہ کچھ سن سکتے؛ کیونکہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، لیکن اندھے تو وہ دل ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ [الحج: 46]

وَتَرَى أُلُوْفَ المُبْصِرِيْنَ بِلَا هُدًى
لَكَأَنَّمَا فَوْقَ الْعُيُوْنِ حِجَابُ
تمہیں ہزاروں بینا لوگ بھٹکے ہوئے نظر آئیں گے جیسے کوئی ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں!

آنکھوں کا نور کھونے والا اندھا نہیں ! اندھا تو وہ شخص ہے جسے اپنے اوپر حقوق اللہ کا علم نہیں ۔

جس وقت حبر امت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی بڑھاپے میں چلی گئی تو انہوں نے اشعار کہے:

إِن يَأْخُذِ اللهُ مِنْ عَيْنَيَّ نُوْرَهُمَا
فَفِيْ لِسَانِيْ وَقَلْبِيْ مِنْهُمَا نُوْرُ
اگر اللہ نے میری آنکھوں کی روشنی مجھ سے لے لی ہے تو میری زبان اور دل بھی نور رکھتے ہیں۔
قَلْبِيْ ذَكِيٌّ وَعَقْلِيْ غَيْرُ ذِيْ دَخَلٍ
وَفِيْ فَمِيْ صَارِمٌ كَالسَّيْفِ مَأْثُوْرُ
میرا دل زیرک ہے اور میرا حافظہ کمزور نہیں، جبکہ میرے منہ میں وحی کی روشنی میں حتمی فیصلے کرنے والی زبان ہے۔

بصیرت: قرآن و سنت کا نام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا} تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرتیں آ چکی ہیں۔ اب جو شخص ان بصیرتوں سے کام لے گا تو اس کا اپنا ہی بھلا ہے اور جو اندھا بنا رہے گا اس کا نقصان بھی وہی اٹھائے گا [الأنعام: 104] یعنی مطلب یہ ہے کہ: قرآن کریم اور سنت نبوی کی صورت میں اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے پاس دلائل اور نشانیاں آ گئی ہیں ، ان دونوں سے تمہارے دلوں کو اسی طرح معنوی روشنی ملے گی جیسے تمہاری آنکھوں کو حسی روشنی ملی ہوئی ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کے نورِ بصیرت میں آگے بڑھتے چلے جائیں، وہموں اور گناہوں کی گھاٹیوں میں مت گریں

مسلمانو!

 تم گناہوں کے جوہڑ میں کس طرح گر سکتے ہو ؟! کہ تمہارے پاس کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی صورت میں نور اور روشنی موجود ہے!!  چنانچہ تم اللہ تعالی سے اعلی ترین نورِ ہدایت مانگو، اور معمولی سے اندھیرے کو بھی معمولی مت سمجھو۔

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما تورات میں رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: “اللہ کی قسم! آپ کی بعض صفات تورات میں وہی ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں: اے نبی ﷺ ! یقیناً ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا، ڈرانے والا اور  اُمیین کی نگہبانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بد خلق ہے اور نہ سنگ دل، نہ تو بازاروں میں شور و غوغا کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتا ہے بلکہ درگزر اور معاف کرتا ہے، اللہ تعالی اسے اس وقت تک ہر گز موت سے دوچار نہیں کرے گا، جب تک کہ اس کے ذریعے سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا نہ کر دے کہ وہ لا الہ الّا اللہ کا اقرار کرنے لگیں ، اللہ اس کے ذریعے اندھی آنکھوں ، بہرے کانوں اور سر بستہ دلوں کو کھول دے گا۔ ” بخاری

مطلب یہ ہے کہ: کلمہ توحید کے ذریعے حق بات نہ دیکھنے والی آنکھوں کو کھول دے گا، یہاں پر حقیقی آنکھوں کی نابینائی مراد نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی شرک کا خاتمہ فرما دے گا اور عقیدہ توحید قائم دائم رہے گا۔ ٹیڑھی قوم سے کفار مراد ہیں۔

جو اللہ تعالی کی نصیحتیں ، قرآنی آیات اور نبی ﷺ کی احادیث سن کر بھی حق بات قبول نہ کرے، اپنی آنکھوں پر باطل کی پٹی باندھے رہے تو وہی جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکا ہوا اندھا ہے!

کافر  اور فاسق لوگ حق بات نہیں سنتے، رشد و ہدایت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ، اگر سن لیں تو فائدہ نہیں اٹھاتے اور دیکھ لیں تو رہنمائی نہیں لیتے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ} وہ سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان میں بصارت تھی۔[هود: 20]

اللہ تعالی نے انہی لوگوں کے آخرت سے متعلق نظریے کے بارے میں فرمایا: {بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ} وہ کافر تو آخرت کے متعلق شک میں ہیں، بلکہ وہ آخرت کے بارے میں کورے ہیں۔[النمل: 66]

جبکہ اہل ایمان زیرک اور صاحب بصیرت ہوتے ہیں، اسی لیے مومن کی نگاہ تیز ، بصیرت تیر بہ ہدف، اور اس کے نقوش ان مٹ ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ (19) وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ} نابینا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے ، نہ ہی اندھیرا اور اجالا۔[فاطر: 19، 20] ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ” {وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ} یہ مثال اللہ تعالی نے اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کے لئے بیان کی ہے۔”

کسی نے کیا خوب کہا ہے: ” انسان کی چار آنکھیں ہیں: دو آنکھیں سر میں دنیا کے لئے تو دو آنکھیں دل میں آخرت کے لئے؛ چنانچہ اگر اس کی سر والی آنکھیں بے نور ہو جائیں لیکن دل کی آنکھیں بینا رہیں تو آنکھوں کی بے نوری اس کے لئے نقصان دہ نہیں ، لیکن اگر سر والی آنکھیں بینا ہوں اور دل کی آنکھیں بے نور ہو جائیں تو آنکھوں کی بینائی اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ انسان کو ایسی سماعت اور بصارت کا کیا فائدہ جس کے ذریعے انسان حق سن نہ سکے اور رشد و ہدایت دیکھ نہ سکے!”

وَمَا انْتِفَاعُ أَخِي الدُّنْيَا بَنَاظِرِهِ
إِذَا اسْتَوَتْ عِنْدَهُ الْأَنْوَارُ وَالظُّلَمُ
دنیا دار کو اپنی آنکھوں کی ایسی بصارت کا کیا فائدہ کہ اس کے ہاں اندھیرا اور اجالا یکساں ہو جائیں!!

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جو حق بات کو اپنے دل سے دیکھ لیتے ہیں، اور حق ان کی زندگی میں رہنمائی اور قبر میں نور کا باعث بنتا ہے۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہمہ قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، جو پناہ طلب کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ علاج کے باوجود صحت یابی سے مایوس ہونے والوں کی بھی شفا دیتا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی اطاعت کرنے والا راہ راست پا لیتا ہے، جبکہ آپ کی نافرمانی کرنے والا گمراہ ہو جاتا ہے، اللہ تعالی اُن پر، انکی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،دائمی سلامتی، اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمدو صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، اور اللہ تعالی کو اپنا نگہبان جانو، اسی کی اطاعت کرو، اور نافرمانی مت کرو {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام پر۔[آل عمران: 102]

مسلمانو!

یہ اہل ایمان کی خوبی ہے کہ وہ بیدار دل ، اور زیرک عقل والے ہوتے ہیں، اللہ تعالی کے احکامات اور نواہی ، وعدوں اور وعیدوں کو سمجھتے ہیں، جب انہیں اللہ کی آیات سنائی جاتی ہیں تو انہیں اچھی طرح سمجھنے کے لئے قلب و جان کے ساتھ مکمل طور پر متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالی کی نصیحت پر غفلت نہیں برتتے، اور عبادت سے رو گردانی نہیں کرتے۔ ان کا کردار ان لوگوں جیسا نہیں ہوتا جو آنکھوں سے اندھے اور کانوں سے بہرے ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا} اور جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جائے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ [الفرقان: 73]

حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: “کتنے ہی لوگ ہیں جو آیات تو پڑھتے ہیں لیکن ان پر بہرے اور اندھے ہو کر گر پڑتے ہیں”

مسلمانو!

عزت، رفعت، عظمت ، بلندی اور ترقی دینی بصیرت حاصل کرنے کا نام ہے۔

یا اللہ! ہمیں دینی بصیرت رکھنے والوں میں شامل فرما، یا اللہ! ہمیں دینی بصیرت رکھنے والوں میں شامل فرما، یا اللہ! ہمیں دینی بصیرت رکھنے والوں میں شامل فرما، تیری رضا کے لئے سجدے کرنے والوں میں شامل فرما، تیری رضا کے لئے سجدے کرنے والوں میں شامل فرما، تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے والوں میں شامل فرما، تیرے احکامات کے سامنے سرنگوں ہونے والوں میں شامل فرما، تیری شریعت کی تعظیم کرنے والوں میں شامل فرما، تیری شریعت کی تعظیم کرنے والوں میں شامل فرما، یا رب العالمین!

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار درود پڑھا اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین، تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین سے راضی ہو جا، اور ان کے کیساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! دین دشمن قوتوں کو نیست و نابود فرما۔

یا اللہ! تمام تر اسلامی ممالک کو بھر پور امن و سلامتی اور استحکام عطا فرما۔ یا اللہ! مملکت حرمین شریفین کو مکاروں کی مکاری، عیاروں کی عیاری، حاسدوں کے حسد، اور کینہ پرور لوگوں کے کینے سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن سے اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ اور فائدہ ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! سرحدوں اور مورچوں پر مامور ہماری افواج کی مدد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! سیکورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں بہترین صلہ اور بدلہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری خطائیں اور عمداً کیے ہوئے گناہ معاف فرما، ہمارے مذاق اور سنجیدگی کے بھی تمام گناہ معاف فرما، یہ سب ہمارے گناہ ہیں!

یا اللہ! ہم تجھ سے برے دن، بری رات اور بری گھڑی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! وبائی حملوں اور آزمائشوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما، تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما، اور ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما، ہم پر جارحیت کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا عظیم! یا رحیم!

پی ڈی ایف فائل تیار ہونے پر مہیا کر دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں