19

مدارس کے طلبہ کا خدشوں میں لپٹا معاشی مستقبل – احسان کوہاٹی

سوشل میڈیا پر فرنود عالم کے نام سے جانے جانے والے یونس عالم سے سیلانی کے خاصے مراسم رہے ہیں۔ یہ ان چند نوجوانوں میں سے ہیں جن کی دسترس سیلانی کی بیٹھک تک رہی ہے، لیکن یہ تب کی بات ہے جب وہ فرنودعالم نہیں ہوئے تھے، البتہ دبے لفظوں میں مدارس کے نظام اور مولوی صاحبان کے خلاف تنقیدکرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ سیلانی کی یونس سے روز کی گپ شپ تو نہ تھی لیکن جب بھی ملاقات ہوتی خوب ہوتی، پھر غم روزگار یونس عالم کو کراچی سے کھینچ کر اسلام آباد لے آیا، اور فاصلے ایسے بڑھے کہ سیلانی کے اسلام آباد آنے پر بھی ختم نہ ہوئے۔ دونوں کی سنگت ’’سنگت‘‘ پر بھی نہ ہوسکی۔ سیلانی کو سامنے بیٹھے پریشان حال نوجوان سے ملنے کے بعد یونس عالم یاد آنے لگے، مدارس کے نظام اور اساتذہ کے رویوں کے حوالے سے اس کی باتوں میں بغاوت کی آنچ سیلانی تب ہی محسوس کرگیا تھا۔ اس آنچ کو بعد میں اسلام آباد کی مخصوص محفلوں کے فکری مباحث بڑھاوا دیتے گئے اور یونس عالم یوٹرن لے کر فرنودعالم ہو گیا۔

ایک دن سیلانی سے ملاقات میں یونس عالم نے عجیب بات کہی۔ کہنے لگا ’’سیلانی بھائی! مدارس مساجد کی دنیا ہی الگ ہے، ہمارے اساتذہ کے نزدیک جس طالب علم نے تعلیم سے فراغت کے بعد منبر، مصلا یا مدرسہ نہیں سنبھالا، ان کے نزدیک اس نے پڑھا لکھا گنوا دیا اور جو کسی مدرسے میں گھنٹے لینے یا مسجد میں امام خطیب ہو گیا، سمجھیں اس کی محنت ٹھکانے لگ گئی۔ جو لوگ مولوی نہیں بن پاتے، اساتذہ ان کا ذکر عبرت کے طور پر کرتے ہیں کہ اس کو اساتذہ کی دعا نہیں تھی، اس لیے پڑھ لکھ کر گنوا دیا اور آج دنیا داری میں لگا ہوا ہے‘‘۔

سیلانی سامنے بیٹھے قاری صلاح الدین کا تعارف بعد میں کراتا ہے، پہلے کراچی کے ایک نوجوان مفتی صاحب سے مل لیجیے جو کل سیلانی سے مخاطب تھے۔ یہ مفتی صاحب بھی اساتذہ کی بددعا نہیں لینا چاہتے تھے، ان کے والد صاحب نے انہیں مدرسے میں داخل کرایا تھا کہ وہ عالم فاضل بن کر دین کی خدمت کریں اور انہوں نے بھی دین کی خدمت کا تہیہ کر کے اساتذہ کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ عالم فاضل اور مفتی ہوچکے تھے اور مختلف مدارس میں پڑھاتے ہوئے زندگی کی گاڑی کسی نہ کسی طرح کھینچ رہے تھے، اساتذہ کے بقول ان کی محنت ٹھکانے لگ چکی تھی، وہ ایک مسجد کے خطیب امام بھی تھے۔ وہ نوجوان قناعت پسند آدمی ہیں، زیادہ کی ہوس نہیں، پھر انہوں نے خواہشوں کو ضرورت بھی نہیں بننے دیا، اور سفید پوشی سے ایک استاد اور امام مسجد کی حیثیت سے زندگی گزارنے لگے۔ انہوں نے علم کی پیاس بجھانے کے لیے تدریس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی، یہاں تک کہ کراچی یونیورسٹی سے اسلامی تعلیمات میں ایم اے کے بعد ایم فل بھی کر لیا۔ خوش قسمتی سے شاہراہ فیصل سے متصل ایک پوش علاقے کی مسجد میں امامت خطابت کی ذمہ داری بھی مل گئی۔ قلیل آمدنی کے باوجود زندگی اطمینان سے گزر رہی تھی کہ سارا اطمینان تلپٹ ہو گیا۔ مسجد کے قریب رہائش پذیر ایک خاتون اسکالر نے مسجد انتظامیہ سے ہٹ کر رمضان میں تراویح کا انتظام کراناچاہا، امام صاحب نے مخالفت کی جس کے جواب میں قضیہ کھڑا کر دیاگیا۔ وہ خاتون اپنے گھر پر درس کی محفلیں منعقد کرتی تھیں جس کی وجہ سے خواتین میں ان کا اچھا خاصا اثر و رسوخ ہو گیا۔ یہ اثر و رسوخ بیگمات سے حضرات تک میں نفوذ کر گیا۔ مسجد میں بھی امام صاحب پر سوال ہونے لگے اور مسجد انتظامیہ دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔ مخالف گروپ کو مسجد کے پیش امام صاحب کی قرات میں غلطیاں محسوس ہونے لگیں، وہ معاملہ جامعہ بنوری ٹاؤن لے آئے، وہاں کے اساتذہ نے مسجد کے امام و خطیب کی اسناد چیک کیں، مفتی صاحب کا قرآن سنا اور ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہاں بات ختم ہو جانی چاہیے تھی لیکن ختم ہونے کے بجائے سرک کر کراچی کے ایک اور مدرسے میں پہنچ گئی۔ خاتون اسکالر کے حمایتی اس مدرسے کے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے مہتم صاحب کے پاس بڑی امید لے کر پہنچے تھے۔ مفتی صاحب بھی ان کی امیدوں پر پورا اترے، وہ اس قسم کے تنازعات ختم کرانے میں خاصی شہرت رکھتے ہیں، انہوں نے یہاں بھی تنازعہ یوں ختم کرایا کہ دس برس سے مسجد کے امام و خطیب کو معزول کروا کے اپنے نامزد کردہ امام کو مسجد کے مصلے پر کھڑا کر دیا کہ بس اب نماز یہ پڑھائیں گے۔ مسجد کے اصل پیش امام ہکا بکا رہ گئے، کاروباری لوگوں پر مشتمل مسجد انتظامیہ میں ہمت نہ تھی کہ وہ مفتی صاحب کے نامزد امام کے قدموں تلے سے مصلا کھینچتے اور ’’مقبوضہ مسجد‘‘ واگزار کراتے سو وہ چپ ہو رہے، اور ایم فل پاس نوجوان مفتی بھی’’سابق‘‘ ہو کر نئی جگہ تلاش کرنے لگے۔

ایک دوست نے اس حوالے سے سیلانی کی مدد چاہی اور ان کی سی وی سیلانی کو بھیج دی۔ سیلانی نے سی وی پڑھی، متاثر کن تعلیمی قابلیت کا حامل نوجوان تھا، بیچار ے کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، لیکن کیا کیا جاسکتا تھا۔ سیلانی کے پاس کوئی اختیار تو تھا نہیں کہ وہ انہیں دوبارہ مسجد کے منبر تک پہنچا دیتا لیکن ان کے لیے ملازمت کی کوشش تو کی جاسکتی تھی سو وہ کرنے کے لیے سیلانی نے اس نوجوان عالم دین سے پوچھا: ’’مفتی صاحب! آپ امامت و خطابت کے سوا کچھ اور کر سکتے ہیں؟‘‘ مفتی صاحب کا جواب حسب توقع نفی میں تھا اور یہی جواب آج مدارس سے فارغ ہونے والی طلبہ کی اکثریت کا بھی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ جگہ جگہ پر آباد مساجد اور مدارس میں قال اللہ اور قال رسول ﷺ کی چہچہاہٹ انھی علماء کرام کے دم سے ہے، لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ مساجد مدارس کی تعداد محدود ہے اور خیر سے ہر برس ہزاروں کی تعداد میں علماء فضلاء دستار فضیلت لئے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور وہ امامت اور خطابت کے سوا کچھ کربھی نہیں پارہے۔ یہ اس وقت کا المیہ ہے کہ باصلاحیت نوجوانوں سے ہم فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ یہ باصلاحیت، باکردار اور کھرے نوجوان مدارس کی بھٹی میں پگھلا ہوا وہ فولاد ہیں جسے ہم نے اپنی ضرورت کے مطابق سانچے میں ڈھال کر کارآمد بنانا ہے لیکن افسوس کہ ہماری اس پر توجہ ہی نہیں۔

اب ملیے سیلانی کے سامنے تشریف فرما قاری صلاح الدین سے، شرمیلے سے قاری صاحب سیلانی کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور سیلانی ان کے دماغ میں کلبلاتے صحافت کے کیڑے مارنے کی کوشش کر رہا تھا ’’بھائی! صحافت تنے ہوئے رسے پر چلنے کا نام ہے، اس سے تو بہتر ہے کہ کوئی مسجد مدرسہ ہی تلاش کر لو، وہاں بھی کوئی پنشن،گریجویٹی، بونس شونس نہیں ہوتا اور یہاں بھی خیر سے انگریز کے یہ باقیات نہیں ہوتے، جب مالکان کا جی چاہے گا کان سے پکڑ کر نکال دیے جاؤ گے اور جس روز نکالا جائے گا اس روز کی حاضری بھی اکاؤنٹنٹ تسلیم نہیں کرے گا، جب حساب کرے گا پیسے کاٹ لے گا۔‘‘

سیلانی کے مشورے پر قاری صاحب نے رونی صورت بنا کر کہا ’’سیلانی بھائی! مسجدیں بھی تو نہیں ملتیں اور مدرسے میں تنخواہ کے نام پر استاد کو آنے جانے کا صرف کرایہ دیا جاتا ہے، آپ بتائیں پانچ چھ ہزار روپوں میں کیسے گزارہ کر سکتا ہے؟‘‘، ’’اب ایسا بھی نہیں ہے، دس پندرہ ہزار تو مل ہی جاتے ہوں گے۔‘‘، ’’دس پندرہ ہزار۔۔۔‘‘ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ’’سیلانی بھائی! ہو سکتا ہے کراچی کے مدارس میں اتنی تنخواہ دی جاتی ہو، یہاں راولپنڈی میں تو اس کی آدھی بھی نہیں ملتی۔‘‘

قاری صلاح الدین کا مسئلہ یہ ہے کہ بچپن ہی میں اس کی خالہ زاد سے نسبت طے کر دی گئی تھی، اب خالہ اپنی بہن سے اصرار کر رہی ہیں کہ اپنی امانت آ کر لے جاؤ اور قاری صاحب ٹالے جا رہے ہیں کہ دلہن کو لانا تو مسئلہ نہیں لیکن اس کے بعد کے مسائل کے لیے وسائل بھی تو ہونے چاہییں۔ قاری صاحب ایک دوست کے توسط سے سیلانی کے پاس پہنچ گئے کہ اور کچھ نہیں تو کسی اخبار میں ہی جز وقتی ملازمت مل جائے، ان کا دیرینہ خواب بھی پورا ہوجائے گا، اور دولہن بھی گھرآجائے گی۔ اب سیلانی انہیں کیسے سمجھاتا کہ یہاں تو خود نان نفقے والی صورتحال ہے۔ میڈیا بحران سے اب تک چھ ہزار افراد بےروزگار ہو چکے ہیں، ہر روز کہیں نہ کہیں سے چھانٹی کی منحوس اطلاع سماعتوں میں برمے کی طرح گھس کر دل دہلائے دے رہی ہوتی ہے، ایسے میں کس سے کیا بات کی جائے۔

سیلانی نے قاری صاحب سے لگی لپٹی رکھے بغیر صاف بات کرتے ہوئے کہا ’’قاری صاحب! میں تو خود اس شہر میں ابھی نیا ہوں، کسی سے سفارش کرنے کی پوزیشن میں نہیں، دوسری بات حالات ہی ایسے ہیں کہ بات کرنا بے کار ہے۔‘‘

’’سیلانی صاحب !پھر میں کیا کروں؟‘‘ قاری صاحب نے کچھ ایسی بے بسی لاچارگی سے سیلانی کی طرف دیکھا کہ اس سے رہا نہ گیا، اس نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ’’انگریزی میں کوئی شدبد ہے؟‘‘، ’’سر! انگریزی پڑھی ہی نہیں، ہاں عربی آتی ہے۔‘‘، ’’ یہاں عربی کا اتنا اسکوپ کہاں ہے، اچھا یہ بتاؤ عربی کے سوا کچھ اور پڑھا سکتے ہو۔‘‘، اس بار بھی جواب نفی میں ہی تھا۔ سیلانی ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا، وہ چاہنے کے باوجود اس نوجوان کے لیے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔

ایک روز پہلے ہی وہ وفاق المدارس سندھ کے ترجمان اور اپنے دوست مولانا طلحہ رحمانی کو وہ صبح صبح اٹھا کر اسی موضوع پر بات کر رہا تھا۔ وہ جاننا چاہ رہا تھا کہ حکومت کی جانب سے مدارس اصلاحات کے حوالے سے بنائی جانے والی کمیٹی کا کیا بنا؟ جواب میں طلحہ رحمانی نے بتایا کہ کچھ بھی نہیں ہوا، مہینوں پہلے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس کی اب تک ایک میٹنگ بھی نہیں ہوئی۔ طلحہ رحمانی کا کہنا تھا کہ درس نظامی میں اصلاحات کا مرحلہ تو ابھی دور کی بات ہے، حکومت جو یکساں تعلیمی نصاب کی بات کر رہی ہے، پہلے اس پر پیش رفت تو کرے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ حکومت سے زیادہ ہمیں اپنے نصاب کی فکر ہے اور وفاق المدارس کی نصاب کمیٹی مدارس کے نصاب کا جائزہ لیتی رہتی ہے، اس کے تواتر سے اجلاس ہوتے ہیں، حکومت اصلاحات چاہتی ہے تو پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کے لیے آگے بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہم پر الزام ہے کہ مدارس میں دنیاوی علوم نہیں پڑھائے جا رہے، اب تو مدارس کے طلبہ بڑی تعداد میں میٹرک کے امتحان دیتے ہیں اور پورے پورے بورڈ میں ٹاپ بھی کرتے ہیں۔ آپ کے اسلام آباد، کراچی اور پشاور بورڈ کی پوزیشنیں مدارس کے طلبہ لے رہے ہیں۔

طلحہ رحمانی کی گفتگو سے سیلانی کو لگا کہ مدارس اور حکومت کے درمیان فاصلہ کچھ گھٹا تو ہے لیکن بہت زیادہ کم نہیں ہوا، یہ فاصلہ کم ہونا چاہیے، مدارس میں پینتیس لاکھ بچے پڑھتے ہیں، حکومت مدارس میں ہنرمندی کے سینٹر کھولنے کا ارادہ کر رہی ہے تو وفاق اس پر غور تو کرے۔ اس پیشکش میں جو قباحتیں محسوس ہورہی ہیں ان کا اظہار تو کرے۔ سچی بات ہے ان پینتیس لاکھ بچوں کو عالم فاضل بنانے کے ساتھ ساتھ ہنرمند بھی بنایا جا سکتا ہے۔ عربی سمجھنے بولنے والی لیبر فورس عرب ممالک کی پہلی ترجیح بن سکتی ہے۔ سامنے کی بات ہے کوئی بھی عرب اپنی ورکشاپ میں عربی بولنے سمجھنے والے ہنرمند کے مقابلے میں عربی سے نابلد ٹیکنیشن کو کیوں ترجیح دے گا؟ اور پھر بیرون ملک نہ سہی اپنے ہی ملک میں ریفریجریشن، ائیر کنڈیشن، الیکٹریشن اور اسی طرح کے دیگر ہنرسکھائے جا سکتے ہیں جس کی بڑی کھپت ہے۔ سرکاری اور نجی ٹیکنیکل ادارے تو تین تین برس کے ڈپلومے کرا رہے ہیں، حکومت وہ تمام نہ سہی تجرباتی طور پر ہی مدارس کے محنتی طلبہ کو ہنرمند بنانے کا لئے کچھ کورسز کا آغاز تو کرے۔ سیلانی کی دلی خواہش ہے کہ مدارس کے باکردار دیندار طلبہ فکر معاش میں الجھے ہوئے نہ رہیں۔ یہ بڑے باصلاحیت اور محنتی ہوتے ہیں۔ سیلانی ایسے طلبہ کو جانتا ہے جو مدارس سے اٹھے اور آج کوئی وکیل بنا ہوا ہے اور کوئی اسکالر بن کر دنیا میں لیکچر دے رہا ہے۔ حکومت بھی صرف زبانی جمع خرچ نہ کرے، آگے بڑھے اور ان نواجوانوں کو بھرپور استعمال کرے۔ ان کے لئے بیوروکریسی کے دروازے بھی کھولے تاکہ داڑھیوں سے سجے روشن چہرے والے نوجوان بھی یہ اہم ذمہ دایاں نبھاتے ہوئے دکھائی دیں، یہ بھی اس دھارے میں شامل ہوں۔ مدارس کے طلبہ کے لئے بھی ملازمتوں کے مواقع ہوں، انہیں صرف مولوی، خطیب اور موذن بھرتی نہ کیا جائے، وہ کہیں تھانے کے ایس ایچ ہوں، کہیں ٹریفک پولیس میں سارجنٹ ہوں، کہیں باوردی افسر ہوں اور کسی محکمے میں سیکرٹری ہوں، اس کے لیے وفاق المدارس اور حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا، ہم آہنگ ہونا ہوگا، حکومت کو اپنی ضرورت بتانی ہوگی، درخواست کرنی ہوگی کہ انہیں ایسا مال چاہیے، علماء کرام کو ڈیمانڈ کے مطابق پروڈکشن دینا ہوگی۔ ایک عالم دین گاڑی کا چالان کاٹتے ہوئے بھی عالم دین ہی ہوگا اور ایس ایچ او گشت کرتے ہوئے بھی عالم دین رہے گا، اس کے موبائل پر گشت سے اس کا علم کم نہیں ہوگا، ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، ایسا نہ ہوا توخالی خالی نظروں سے خلاؤں میں گھورنے والے قاری صلاح الدین ہی مدارس سے دستار فضلیت لے کر نکلتے رہیں گے اور بااثرلوگوں کی جانب سے مسجدیں چھین لیے جانے کے بعد ایم فل اسکالر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ ہمیں مدارس میں تیار ہونے والے اعلی فولاد کو ضرورت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے سامنے بیٹھے پریشان نوجوان کو ہمدردی سے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں