27

بٹ کوائن یا ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے؟

اگر آپ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہونے والے تبدیلیوں سے خود کو آگاہ رکھتے ہیں تو بٹ کوائن کا نام آپ کے لئے یقینا نیا نہیں ہوگا۔ بٹ کوائن کے حوالے سے جھوٹی سچی خبریں اور معلومات انٹرنیٹ پر عام ہیں جن کی وجہ سے عام انٹرنیٹ استعمال کرنے والے یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اصل میں بٹ کوائنز ہیں کیا اور یہ کہاں سے آتے ہیں؟ چونکہ دھوکے بازی انٹرنیٹ پر بے حد عام ہے، اس لئے پہلی بار جب بٹ کوائن کے حوالے سے پڑھا جاتا ہے تو یہ بظاہر ایک دھوکہ ہی محسوس ہوتا ہے۔

ہم اس مضمون میں بٹ کوئن کے حوالے سے قارئین کے ذہنوں میں موجود سوالات کے آسان زبان میں جوابات دینے کی کوشش کریں گے اور بتائیں گے کہ بٹ کوائنز ایک حقیقت ہے یا دھوکہ!

پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ بٹ کوائن پروٹوکول اور کلائنٹ دونوں ہی اوپن سورس ہیں، یعنی ان کا سورس کوڈ سب کے لئے دستیاب ہے۔ یہ پروٹوکول بہترین کرپٹو گرافی پر مبنی ہے جس میں تمام ہی ٹرانزیکشنز انتہائی محفوظ ہوتی ہیں۔

یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ پے پال (PayPal)بھی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے لیکن یہ پے پال سے اس لئے مختلف ہے کہ پے پال میں اصلی کرنسی (جو ڈالر ، پائونڈ یا یورو وغیرہ ہوسکتی ہے) کے عوض ورچوئل کرنسی آپ کے پے پال اکائونٹ میں جمع کی جاتی ہے۔ یعنی سارا دارومدار اصلی کرنسی پر ہی رہتا ہے۔ پے پال میں موجود کرنسی کو کنٹرول کرنے اور اس اکائونٹ سے ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کو ریگولیٹ کرنے لئے ریگولیٹر موجود ہیں۔ بٹ کوائن کا معاملہ یہاں بالکل مختلف ہے۔ بٹ کوائنز کو کنٹرول کرنے والا کوئی مرکزی بینک نہیں۔ نہ کوئی اس کا ریٹ طے کرتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو ریگولیٹ کرسکتا ہے۔ یہ peer-to-peer ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے مکمل طور پر ’’ڈی سینٹرالائزڈ (decentralized)‘‘ ہے۔ اسے پیئر ٹو پیئر فائل شیئرنگ پروٹوکولز کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ بٹ ٹورینٹ اور اس جیسے دیگر فائل شیئرنگ پروٹوکولز میں انہیں استعمال کرنے والوں کے کمپیوٹر ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطہ اور ڈیٹا ایکسچینج کرتے ہیں۔

بٹ کوائنز کا تصور پہلی بار2008ء میں ایک پیپرجسے ’’ستوشی ناکا موتو ‘‘ کے فرضی نام سے لکھا گیا تھا، کرپٹو گرافی کے لئے مخصوص ایک میلنگ لسٹ پر پیش کیا گیا۔ اس پیپر میں ستوشی ناکاموتو نے اسے پیئر ٹو پیئر الیکٹرانک کیش سسٹم قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اس نظام پر گزشتہ دو سال سے کام کررہا ہے

اسی ستوشی نے اس پروٹوکول کی ابتداء کی اور بنیادی کلائنٹ وغیرہ لکھا۔ جنوری 2009ء میں ستوشی نے مائننگ (جس کا ذکر ہم کچھ دیر میں کریں گے)شروع کی اور پہلا بلاک (جسے genesis بلاک کہا جاتا ہے) تخلیق کیا۔ اس کے چھ دن بعد ہی BitCoin v0.1 ریلیز کیا گیا۔ 2009ء کے آخر تک 32 ہزار بلاک تخلیق کئے جاچکے تھے اور بٹ کوائنز کا مجموعہ 16 لاکھ سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔

بٹ کوائن کلائنٹس کو wallets کہا جاتا ہے۔ یہ کسی اصلی بٹوے کی طرح کوائنز کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر والٹ کسی بھی وجہ سے کھو جائے یا کوئی چوری کرلے تو سمجھیں کہ کوائنز بھی گئے۔ لہٰذا بٹ کوائن والٹس کی حفاظت بھی اسی طرح کرنی چاہئے جس طرح عام زندگی میں پیسوں سے بھرے ایک بٹوے کی کرتے ہیں۔

ہر بٹ کوائن والٹ کے ساتھ ایک ایڈریس منسلک ہوتا ہے۔ صارف اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زائد ایڈریسز بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اسی ایڈریس کے ذریعے بٹ کوائنز وصول کئے جاتے ہیں۔ اسے آپ گھر کا پتا کہہ سکتے ہیں جس پر منی آرڈر نے موصول ہونا ہے۔ یہ ایڈریس دراصل ایک پبلک کی (Public Key) جو کچھ انگریزی حروف اور نمبروں کا مجموعہ ہوتی ہے جس کی لمبائی 33 کریکٹرز تک ہوتی ہے۔ اس کا شروعاتی عدد 1 یا 3 ہوتا ہے۔ اس پبلک کی سے مطابقت رکھتی ہوئی پرائیوٹ کی (Private Key) والٹ میں محفوظ ہوتی ہے۔ جب ایک شخص A اپنے والٹ سے کسی دوسری شخص B کو بٹ کوائنز بھیجتا ہے یعنی ٹرانزیکشن کرتا ہے، تو شخص A دراصل شخص B کی پبلک کی (جو کہ شخص B کے والٹ کا ایڈریس ہے)، پر اپنی پرائیوٹ کیز بھیجتا ہے۔ اگر یہ پرائیوٹ کیز کسی بھی وجہ سے کھو جائیں تو اس والٹ میں موجود بٹ کوائنز ناقابل استعمال ہوجائیں گے۔

بٹ کوائنز ایک والٹ سے دوسرے میں منتقل کرنے کے عمل یا ٹرانزیکشن کی انٹیگریٹی یقینی بنانے اور جعل سازی کو ناممکن بنانے کے لئے اس ٹرانزیکشن کو مائنرز (miners) کے حوالے کیا جاتا ہے جو اس کی تصدیق کرتے ہیں اور سائن بھی۔ اس عمل سے بلاک (block) تشکیل پاتے ہیں۔

مائننگ کے عمل میں زبردست کمیوٹیشنل طاقت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ ریاضیاتی عمل ہے جس میں ٹرانزیکشن کو ہیش (hash) میں بدلا جاتا ہے۔ بٹ کوائن ٹیکنالوجی میں بلاک اور مائننگ ہی دو چیزیں ہیں جنھیں سمجھنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ یہ بہت سادہ نہیں ہیں لیکن اتنی مشکل بھی نہیں کہ سمجھی نہ جاسکیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس عمل میں شامل مراحل کو مزید سادہ زبان میں سمجھائیں

ہیش(Hash)

کمپیوٹنگ میں ہیشنگ کا عمل باکثرت ہوتا ہے۔ ہیش فنکشن کو کسی بھی سائز کا ڈیٹا فراہم کیا جائے تو یہ اسے پیچیدہ ریاضی عمل سے گزار کر ہمیشہ ایک ہی سائز (fixed size) کے اسٹرنگ میں بدل دیتا ہے۔ ایک ہی جیسی ان پٹ پر ہیش فنکشن ہمیشہ ایک ہی جیسی آئوٹ پٹ ویلیو ریٹرن کرے گا۔ لیکن ان پٹ کے طور پر دیئے گئے ڈیٹا میں انتہائی معمولی تبدیلی آئوٹ پٹ ویلیو کو مکمل طور پر تبدیل کردیتی ہے۔ آئوٹ پٹ ویلیو جسے کرپٹوگرافک ہیش ویلیو کہا جاتا ہے، کے ذریعے یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ ان پٹ میں کیا ڈیٹا دیا گیا تھا۔



فرض کیجئے کہ ایک عدد 561204 ہے جسے دو اعداد کو ضرب دے کر حاصل کیا گیا ہے۔ کیا آپ وہ دو نمبر بتا سکتے ہیں؟ یہ یقینا بہت مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ کو بتایا جائے کہ یہ نمبرز 62356 اور 9 ہیں تو آپ بہ آسانی دونوں کو ضرب دے کر نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ہیشنگ کا عمل بھی کچھ ایسا ہی ہے لیکن اس سے بہت زیادہ پیچیدہ اور مشکل۔

بلاک

بٹ کوائن نیٹ ورک پر ہونے والی ہر ٹرانزیکشن ایک رجسٹر میں ریکارڈ ہوتی ہے۔ یہ ٹرانزیکشن ہمیشہ کے لئے نیٹ ورک پر محفوظ رہتی ہے اور اسے کبھی بھی اور کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ ٹرانزیکشنز کا یہ مجموعہ بلاکس میں محفوظ ہوتا ہے۔ ہر بلاک میں ان تمام تازہ ترین ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ ہوتا ہے جنھیں اب تک کسی دوسرے بلاک کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ہر بلاک میں ٹرانزیکشن ریکارڈ کے ساتھ اپنے سے پچھلے بلاک کے بارے میں بھی معلومات محفوظ ہوتی ہے۔

ستوشی ناکاموتو کون ہے؟
ستوشی ناکاموتو کون ہے، یہ بات کسی کو معلوم نہیں۔ 2008ء میں کرپٹو گرافی کی میلنگ لسٹ پر موجود ستوشی ناکاموتو کی شناخت خود ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ بٹ کوائن پروٹوکول کے ابتدائی دنوں میں ستوشی بٹ کوائن کے حوالے سے مشہور ایک فورم پر خاصا سرگرم تھا اور باقاعدگی سے لوگوں کو جوابات دیتا تھا۔ اگرچہ بٹ کوائن مکمل طور پر اوپن سورس ہے لیکن اس کے سورس کوڈ میں پہلے سال کے دوران تمام تبدیلیاں ستوشی ناکاموتو نے ہی کیں۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد ستوشی منظر سے بالکل غائب ہوگیا۔ بٹ کوئن کی بھاگ دوڑ Gavin Andresen جو اِس وقت نیٹ کوائن کے لیڈ ڈیویلپر ہیں، کے حوالے کرنے کے بعد ستوشی نے اس کے سورس کوڈ میں آخری تبدیلی 2010ء کے درمیان میں کی تھی۔ اپریل 2011ء میں جب ستوشی سے اس کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ اب دوسرے کاموں میں مصروف ہے۔ اس کے بعد ستوشی کسی بھی ای میل کا جواب نہیں دیا۔ حتیٰ کہ Andresen کی ای میلز کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

اس بارے میں سب کی متفقہ رائے ہے کہ ستوشی ناکاموتو ایک فرضی نام ہے۔ یہ صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ کوئی گروپ، ادارہ یا حکومتی محکمہ بھی ہوسکتا ہے۔ ستوشی کے بارے میں عام دستیاب معلومات کے مطابق یہ جاپان میں رہتا ہے اور اس کی عمر 37 کے لگ بھگ ہے۔ یہ انگلش بولتا ہے تاہم فورم پر انگلش لکھتے ہوئے یہ امریکی اور برطانوی انگلش لہجوں کا استعمال کرتا ہے۔ اس کا مقصد یقینا اپنی قومیت چھپانا ہے۔ فورم اور ای میل کے جوابات بھی کسی خاص پیٹرن کے تحت نہیں دیتا تھا اس لئے ان سے ستوشی کے ٹائم زون کے بارے میں بھی معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔

ستوشی ناکاموتو کے کام دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک انتہائی ذہین ریاضی دان، کرپٹو گرافی کا ماہر اور کمپیوٹر پروگرامنگ سے آگاہ شخص ہے۔ اگرچہ اس کی پروگرامنگ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کوئی پروفیشنل پروگرامر نہیں۔ Andresen سمیت کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ستوشی کسی یونی ورسٹی سے وابستہ ریسرچر ہے۔ کیونکہ جس قسم کی تحقیق ستوشی نے کررکھی تھی، وہ عموماً تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ بٹ کوئن کے ابتدائی دنوں میں خدشہ تھا کہ اس نظام میں کوئی خرابی دریافت ہوجائے گی اور یہ سسٹم مکمل طور پر بیٹھ جائے گا لیکن ستوشی کا تیار کردہ سسٹم اب تک بغیر کسی مسئلے کے چل رہا ہے۔ اگر ستوشی واقعی کوئی گروپ یا ادارہ نہیں بلکہ کوئی اکلوتا شخص ہے تو وہ موجودہ صدی کے ذہین ترین لوگوں میں سے ایک ہے۔ کچھ لوگ جن کے بارے میں شک ہے کہ وہ ستوشی ناکاموتو ہوسکتے ہیں، درج ذیل ہیں

گون اینڈریسن :

یہ بٹ کوائن پروجیکٹ کے لیڈر ہیں اور ستوشی ناکاموتو ہونے کے سب سے اہم امیدوار بھی یہی ہیں۔ اینڈریسن بٹ کوائن فائونڈیشن میں بطور چیف سائنٹسٹ کام کررہے ہیں ۔ ستوشی کے بعد اگر بٹ کوائنز پر کسی کا زور چلتا ہے تو وہ اینڈریسن ہی ہیں۔ ایک بٹ کوائن ڈیویلپر جو کہ اینڈریسن سے مسلسل رابطے میں رہا ہے، کے مطابق اینڈریسن اور ستوشی کا طرز تحریر اور خطاب بہت ملتا جلتا ہے۔

مائیکل کلیئرنیو یارکر (newyorker) کی ایک انویسٹی گیشن رپورٹ میں 23 سالہ کرپٹو گرافی میں گریجویٹ مائیکل کلیئر کو بھی ممکنہ ستوشی کہا گیا ہے۔ 2008ء میں مائیکل کو ٹرینٹی کالج کے بہترین طالب علم برائے کمپیوٹر سائنس کا اعزاز بھی دیا گیا اور انہوں نے پیئر ٹو پیئر کرپٹوگرافی کے حوالے سے ایک ریسرچر پیپر بھی لکھا ہے۔ تاہم مائیکل ، ستوشی ہونے سے مکمل طور پر انکار کرتے ہیں۔

نیل جے کنگ، چارلس برے اور ویلادیمیرآکسمین

فاسٹ کمپنی کے Penenberg نے ستوشی کے متعلق نیو یارکر کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد خود ستوشی کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ستوشی کی لکھے ریسرچر پیپر کے تجزیئے سے ایک اصطلاح تلاش کی جو کہ پیٹنٹ کی ایک درخواست میں بھی استعمال کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیٹنٹ کی یہ درخواست bitcoin.org ڈومین کی رجسٹریشن کے صرف تین دن بعد ہی جمع کروائی گئی تھی۔ ان تینوں صاحبان نے جو پیٹنٹ کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں، ان کا تعلق انکرپشن، کمیونی کیشن ، نیٹ ورکس اور نوڈز سے ہے۔ اس لئے ستوشی ان تینوں میں سے کوئی یا ان تینوں کا گروپ بھی ہوسکتا ہے۔

حکومت ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ بٹ کوائن کی تیاری میں کسی حکومت کا ہاتھ ہے تاکہ امریکہ ڈالر یا دیگر اہم کرنسیوں کو کمزور کیا جاسکے۔ تاہم اس تھیوری پر یقین کرنے کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں۔

مشکل (Difficulty)
بٹ کوائنز بنانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ہر 2016 بلاکس کی کامیاب تلاش کے بعد ایسا بلاک جو کہ بٹ کوائن نیٹ ورک سے مطابقت رکھتا ہو، بنانے کے لئے مائنرز کو مزید کمپیوٹنگ طاقت اور وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ Difficulty دراصل ایک نمبر ہے جو صرف زیادہ ہی نہیں کم بھی ہوسکتا ہے۔ اس وقت طے شدہ اصول کے مطابق ہر دس منٹ میں ایک بلاک بننے چاہئے۔ اس طرح 2016 بلاکس بنانے میں دو ہفتے لگتے ہیں۔ لیکن اگر بلاکس بننے کی رفتار اس سے زیادہ ہو، یعنی 2016 بلاکس بنانے میں دو ہفتے سے کم وقت صرف ہوا ہے تو difficulty میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ اگر انہیں بنانے میں دو ہفتے سے زیادہ وقت لگے تو difficulty کم ہوجاتی ہے۔ اس کا مقصد بٹ کوائن نیٹ ورک میں بٹ کوائنز کی سپلائی کو ایک خاص حد تک اور محدود رکھنا ہے۔

مائننگ

ایک بلاک کے بعد دوسرا بلاک تلاش کرنے کا عمل مائننگ ہے۔ اس کام کے لئے خاص سافٹ ویئر استعمال کئے جاتے ہیں جنھیں مائنرز کہا جاتا ہے۔ یہ مائنرز کسی بلاک (جس میں ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ، پچھلے بلاک کی معلومات، وقت وغیرہ موجود ہوتا ہے)، کے ساتھ ایک Nonce جو ایک رینڈم نمبر ہوتا ہے، لگا کر اس کا ہیش بناتے ہیں۔ ہر ہیش کو Target سے ملا کر دیکھا جاتا ہے ۔ اگر ہیش ٹارگٹ سے چھوٹا ہے تو ہیش اور بلاک قابل قبول ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہیش دریافت کرنے والے کو 25 بٹ کوائنز بطور انعام دیئے جاتے ہیں۔

یہ سب پڑھنے کے بعد یقینا آپ کے ذہن میں سوال اٹھ رہا ہوگا کہ آخر اس قدر پیچیدگی کی ضرورت ہی کیا تھی؟ دراصل ستوشی چاہتا تھا کہ بٹ کوائن نیٹ ورک پر کرنسی کی سپلائی میں استحکام رہے اور صرف ضرورت کے مطابق ہی کرنسی سپلائی کی جائے۔ مائننگ کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ 21 ملین بٹ کوائنز نہیں بنا لئے جاتے۔ کرنسی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ستوشی نے ایک پابندی یہ بھی لگائی ہے کہ کامیاب بلاک دریافت کرنے پر دیئے جانے والے بٹ کوائنز کی تعداد ہر چار سال بعد آدھی کردی جاتی ہے۔ یہ تصور بیشتر ممالک کے مرکزی بینکوں سے بالکل مختلف ہے جو وقت پڑنے پر اپنی من چاہی مالیت کے نوٹ چھاپ لیتے ہیں۔

کیا بٹ کوائن مائننگ اب بھی ممکن ہے؟
جی ہاں، لیکن اب یہ انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ مائنرز کی مدد سے بٹ کوائنز کو مائن کررہے ہیں۔ آج سے چند سال پہلے تک بٹ کوائنز کو کھوجنے کے لئے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتی تھی۔ ستوشی کے شائع کردہ سورس کوڈ کو کمپیوٹر پر چلا کر ایک ہی دن میں درجنوں بٹ کوائنز بنا لئے جاتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ difficulty میں اضافہ ہوتا گیا اور مائنرز کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ ابتداء میں بٹ کوائن مائننگ کا کام عام کمپیوٹرز پر کیا جاتا ہے، لیکن بعد گرافیکل پروسیسنگ یونٹس کو اس مقصد کے لئے زیادہ کارآمد پایا گیا۔ مائننگ کے لئے اب جدید مشینیں بھی دستیاب ہیں جن کا مقصد ہی بٹ کوائنز کی کھوج لگانا ہے۔ یہ مشینوں کروڑوں ہیش فی سیکنڈ تک بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ لیکن مشین چاہے کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، وہ بجلی سے ہی چلتی ہے جس کی قیمت بھی مسلسل بڑھ ہی رہی ہے۔ لہٰذا چھوٹے پیمانے پر اب بٹ کوائن مائننگ منافع بخش نہیں۔

کیا یہ قانونی ہے؟
فی الحال یہ غیر قانونی نہیں اور اس کے استعمال کرنے والے لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ اس کرنسی کے بارے میں پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس میں کرنسی بھیجنے اور وصول کرنے والا کی شناخت کرنا ممکن نہیں۔ لہٰذا اس کرنسی کو غیر قانونی دھندوں کے لئے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سلک روڈ نامی ویب سائٹ جو onion رائوٹنگ پر چلتی ہے اور منشیات سمیت ہر قسم کی غیر قانونے دھندوں کے لئے مشہور ہے، پر خرید و فروخت کے لئے بٹ کوائنز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جوئے اور غیر قانونی اشیاء کی خریداری کیلئے بھی بٹ کوائنز استعمال کئے جاتے ہیں۔ تاہم ان سب کے باوجود بٹ کوائن پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بٹ کوائنز پر اسے استعمال کرنے والوں کی شناخت مکمل طورپر خفیہ نہیں ہوتی اور انہیں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس رپورٹ کے بعد بٹ کوائن کا غیر قانونی کاموں کے لئے استعمال کم ہوجائے۔

بٹ کوائن قبول کرنے والی ویب سائٹس کی تعداد خاصی کم ہے۔ لہٰذا بٹ کوائنز سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ڈالرز یا یورو وغیرہ میں تبدیل کرلیا جائے۔ اس مقصد کے لئے منی چینجرز کی طرح بٹ کوائن ایکسچینج موجود ہیں۔

بٹ کوائن ایکسچینج
بٹ کوائن ایکسچینج صارف کو بٹ کوائنز کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ انہیں امریکی ڈالرز یا یورو وغیرہ میں منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ سب سے بڑا بٹ کوائن ایکسچینج https://mtgox.com ہے۔ اس پر چند ماہ پہلے امریکہ حکومت کی جانب سے کچھ پابندیاں لگائی گئیں تھیں مگر یہ اب بھی آپریشنل ہے اور اطلاعات کے مطابق روزانہ ایک ملین ڈالرز کے لگ بھگ کی ٹرانزیکشنز اس پر انجام پاتی ہیں۔ MtGox کے علاوہ بھی کئی بٹ کوائن ایکسچینج اس وقت کام کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں