40

سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات

سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات

معلومات رسانی کا طریقہ کار کی کوئی مناسب تاریخ اور حتمی ذرائع دنیا میں کہیں بھی اپنی تاریخی حیثیت کا جواز نہیں رکھتے تاہم یہ حقیقت ہے کہ چمڑے پر بکھیری جانے والی روشنائی سے لیکر سفید ململ کے کپڑے ،پتھروں اور پتوں پر اشکال وجملوں کی صورت میں خبررسانی اورمعلومات کا ذریعہ جنگ و جدل سے لیکر عام روز مرہ کے حالات سے باخبر رکھنے کا ایک بہت ہی قدیم طریقہ کار تھا جوکہ وقت اور حالات کیساتھ زمانے کی رفتار کی طرح بدلتا چلا گیااور جب کاغذ کی ایجاد ممکن ہوئی تو یہ سلسلہ بادشاہوں کے دربار سے نکل کر خط وکتابت سے بھی کہیں آگے اخبارات تک پہنچ گیااور پھر دنیا نیوہ دور بھی دیکھا جب کاغذ،قلم،کاغذاور پھر کاغذ کا ہی دور چل نکلا ،نتیجتا خبر رسانی کی دوڑ جرائد رسائل،میگزین،شمارے ،ماہنامے،ہفت روزے، روزنامے اور نہ جانے پھر دنیا نے کتنے ہی چھپے خزانوں کو ایک کاغذ،چند سطور اور چند جملوں تک جا پہنچایا ،ترقی کے ادوار چلتے رہے پھر یہی دور ترقی کرتے کرتے ریڈیائی لہروں سے ہوتا ہوا ریڈیو کی ایجاد تک جا پہنچا جسے تاریخ میں اتفاق کیساتھ الیکٹرانک میڈیا کی ایجاد کی بنیادی اکائی تصور کیا جاتا ہے،زامنہ قدیم میں جو خبر کبوتروں اور قاصدوں کے ذریعے انسانی جبلت تک مہینوں اور ہفتوں میں پہنچتی تھی پھر وہ سلسلہ بھی دنوں اور گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا،الیکٹرانک میڈیا نے گزشتہ چند عشروں کے دوران پوری دنیا میں تہلکہ مچایا ان میں کمپوٹر کی دنیا اور انٹر نیٹ کی صورت میں اس سے وابستہ دیگر جہتوں نے زمانہ کی رفتار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور پھر مختلف قسم کے ٹی،وی چینلز ،ریڈیو سٹیشنز اور کمپوٹر سے جُڑے انٹرنیٹ نے سوشل میڈیا تک کو متعارف کروا کے انسان کو انگلیوں کی جنبش سے پوری دنیا کے ہر مقام پر ایک ایک شخص سے جوڑ اور آشنا کر کے رکھ دیا،یون گھنٹوں اور دنوں کا سفر بھی خبررسانی کے اس میدان میں منٹوں،سیکنڈوں اور لمحوں سے جُڑ کر رہ گیا،اب یہ حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں سوشل میڈیا نے ایسی کامیابی حاصل کی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی کثیر تعداد نے اس کا استعمال شروع کردیا، ہر نئی ٹیکنالوجی یا نئی ایجاد اپنے ساتھ کچھ نقصانات بھی لاتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی کافی سارے نقصانات ہوسکتے ہیں، جیسے ایک نقصان تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ کسی بھی خبر یا افواہ کی تحقیق سے بھی پہلے وہ پوری دنیا میں نشر کردی جاتی ہے،سوشل میڈیا کو مکمل طور پر غلط بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے بہترین استعمال سے نوجوان نسل کی صیح معنوں میں ترغیب بھی کی جا سکتی ہے،حال ہی میں مصر کے اندر ایک ایسے واقعہ نے جنم لیا کہ جب ایک نوجوان کی سوشل میڈیا پر بلند ہونے والی آواز نے ساری قوم کو یکجا کر دیااور پھر حق کیلئے وہی قوم جت گئی، بحیثیت مجموعی سوشل میڈیا کے بہت سے فوائد بھی ظاہر ہورہے ہیں،ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریبا 30 ملین شہریوں کو انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے، جن میں سے دس ملین شہری فیس بک جبکہ دو ملین کے قریب افراد ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں، سوشل میڈیا کی دنیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں فیس بک پر جعلی اکاوئنٹ بنا کر لوگوں کو دھوکہ دیا گیا، اسی طرح ای میل یا سوشل میڈیا اکاوئنٹ ہیک کر کے لوگوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی گئیں،پاکستان میں کچھ عرصہ قبل ہی کراچی میں فیس بُک کے ذریعے ایک بچے کو اغوا کر لیا گیا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سنگین جرائم کا ارتکاب کس حد تک ممکن ہے،اس وقت سوشل میڈیا پر بہت سے جعلی اکاؤنٹس بھی موجود ہیں، سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہے کہ جب بھی کوئی دوست بننے کی درخواست بھیجتا ہے تو تصدیق کیے بغیر اسے قبول نہ کریں، کیونکہ ذاتی زندگی میں ہم ہر کسی پر اعتبار نہیں کرتے تو سوشل میڈیا پر اتنی جلدی بھروسہ کیوں کر کرنا ضروری ہے،اسی طرھ ہمارے ہاں جس معاشرے میں یہی ٹیکنالوجی ابھی ابھر رہی ہے اور زیادہ تر گھروں میں والدین یا سرپرست اس ٹیکنالوجی سے متعلق مناسب علم یا معلومات بھی نہیں رکھتے اس لیے انہیں بھی چند ایک ایسی باتوں پر غور ضرور کرنا چاہیے کہ اور اپنے بچوں کو یہ لازمی تااثر دینا چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ پر ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں،دوسری جانب اسی میڈیا کا استعمال کرنے والے اپنے انجان کسی بھی دوست کو اپنی ذاتی معلومات نہ دیں جیسے مو بائل نمبر، گھر کا پتہ اور ذاتی تصاویر، کبھی بھی یہ نا لکھیں کہ آپ کہاں ہیں اور کیا کر ر ہے ہیں، کچھ لوگوں نے فیس بک یا ٹوئٹر پر لکھا ہوتا ہے کہ میں گھر میں تنہا ہوں، اسکول یا کالج کے راستے میں ہوں یا فلاں مارکیٹ میں ہوں،یقیناًاس طرح کی معلومات خطرناک ہو سکتی ہیں اورمذموم عزائم رکھنے والے لوگوں کے مقاصد آسان ہو جاتے ہیں،اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معاشرے میں موجودجرائم پیشہ عناصر تو موبائل، ٹرانسپورٹ وغیرہ بھی استعمال تو کرتے ہی تھے اب ان کی انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا سے بھی ہیلو ہائے ہو چکی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا استعمال معاشرتی زندگی کا لازمی جزو بن گیا ہے تو بے جا نہ ہوگا،تاہم سوشل میڈیا میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ مقصدیت اور صداقت کے فقدان کا ہے، سوشل میڈیا پر تو بے تحاشہ اطلاعات ہر آدمی دے رہا ہے، ان میں کتنی حقائق پر مبنی ہیں اور وہ واقعی بامقصد ہیں؟ وہ واقعی صداقت کے اصولوں پر پورا اترتی ہیں اور ان کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ سب باتیں حقیقت کے برعکس ہی ہوتی ہیں اس لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کیساتھ اس کے منفی پہلوؤں کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور احتیاط ہی کو مقدم رکھنے سے بگاڑ اور سنوار دونوں پہلوؤں پر ہی عبور حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات کے حوالے سے علامہ اقبال کے شعر کے مطابق تو کسی حد تک یہ بات بالکل درست ہے کہ جدید آلات نے ہم سب کو سہل پسند بنا دیا ہے لیکن بات ہم نے کرنی ہے میڈیا کے لئے تو اس میں کوئی ،شک نہیں کہ میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے میڈیا کی مختلف اصناف میں سر فہرست تو فیس بک ہے جو دنیا کے مختلف کونوں میں بیٹھے لوگوں کو دوست بنارہی ہے سوشل میڈیا کسی بھی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کا تیز ترین ذریعہ ہے وہ حقائق جو نیوز چینل پہ ہم تک نہیں پہنچ پاتے میڈیا ان کا پردہ فاش کر دیتا ہے لیکن اس کے لئے افراد کا باشعور ہونا بہت ضروری ہے کہ وہ اس خبر کو بغیر تحقیق آگے مت پھیلائیں اور اس ضمن میں پہلے ازخود تحقیق ضرور کر لیں میڈیا کے دیگر فوائد میں سب سے بڑا فائدہ ہماری نوجوان نسل کی تعلیم میں مدد کا ہے ایک کلک سے وہ اپنی مرضی کی تعلیمی معلومات کو حاصل کر سکتے ہیں۔ دفاتر ،سکول،ادارے جن میں بنک ،اخبارات ،بزنس غرض دنیا کے ہر شعبے کی تفصیلات اور حل موجود ہوتے ہیں۔ اب تو گھریلو خواتین کیا مرد بھی کھانا بھی سوشل میڈیا کی مدد سے ایک سگھڑ خاتون کی طرح بنا سکتے ہیں ایک وقت تھا کہ جب کسی عزیز جو بیرون ملک مقیم ہوتے تھے ان کی شکل دیکھنے کے لئے بھی لوگ ترس جایا کرتے تھے لیکن میڈیا نے اس مشکل کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ آپ واٹس ایپ ہو یا انسٹا یا سکائپ ان چیزوں نے فاصلوں کو گویا سمیٹ دیا ہے اب آپ گھنٹوں اپنے پیاروں سے بات کر سکتے ہیں بالکل ویسے جیسے سامنے بیٹھے ہوں دوسرے ممالک کی تہذیب وتمدن سے وہ لوگ بھی آگاہ ہو رہے ہیں جو کبھی ان ممالک میں گئے نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ فیس بک پہ اپنے قریبی عزیزوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور اب کسی کی خوشی یا غم میں آپ فوری طور پر آگاہی حاصل کر کے ان کے ساتھ ان کے مطابق شمولیت بھی اختیار کرتے ہیں کسی کی برتھ ڈے وغیرہ ہو یا کوئی تہوار آپ بآسانی ان کو تہنیتی پیغامات پہنچادیتے ہیں۔

جہاں میڈیا کے چند فوائد میں نے آپ کو گنوائے وہیں اس کے کچھ منفی اثرات بھی آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گی سب سے پہلے فیس بک کے بارے میں میں آپ کو بتاو¿ں کہ فیس بک درحقیقت اب ایسے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آچکی ہے کہ آپ اب فیس بک کو پھاپھا کٹنی کا نام بخوشی دے سکتے ہیں دوسرے ممالک کی نسبت ہمارے ملک میں اس کا غلط استعمال زیادہ ہے خواتین نے اب گلی کی نکڑ پہ کھڑے ہوکر غیبت کرنا کم کر دیا ہے اب میڈیا کا شکریہ ان باکس سے پیج تک غیبت سے لے کر گالیوں تک کا عمل اس پہ کیا جاتا ہے اکثر خواتین تو اپنی ہانڈیاں جلا کے اپنے گھر میں جھکڑا کرتی ہیں تو کچھ دوسروں پہ جھوٹی شان وشوکت بھگارنے کے شوق میں ایسے کمال کے جھوٹ بولتی ہیں کہ دوسروں کے گھروں میں میاں بیوی کے جھگڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو جناب سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس کے فوائد سے مستفید ہونے کے بجائے اس پہ گیم کھیل رہی ہے اور جو عملی سرگرمیاں میڈیا سے پہلے لازم ہوا کرتی تھیں وہ اب مفقود ہیں بچے اب کرکٹ ہاکی یا بھاگ دوڑ کے کھیلوں کے بجائے ایک جگہ گھنٹوں بیٹھ کر ہزاروں قسم کی گیمز کھیل رہے ہیں جو ان کی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے بچے تو اس نقصان میں مبتلا ہیں یہاں دو برس کے بچوں سے لے کر ستر برس تک کے بچے اس میں پیش پیش ہیں ۔ یہ ایک نشے کی طرح ان کو عادی کر لینے والی سہولت ہے۔

اس کا ایک اور منفی رخ کہ خاندان کے وہ میل جول جو کسی خوشی یا غم کے مواقع پہ ہو جاتے تھے وہ اب میڈیا کی بدولت نیٹ پہ ہی بھگتا دئیے جاتے ہیں یوں دنیا تو گلوبل ویلج ہوئی لیکن رشتے دور ہوگئے دوسری تہذیبوں کے اثرات ہماری زندگی پر پڑنے لگے نوجوان الگ بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں تعلیم سے دور اور نااہل ہوتے جارہے ہیں یوں تو سارا معاملہ کسی بھی چیز کے استعمال کے لئے شعور کے درجات کا ہے کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم میڈیا کو استعمال کس طرح کرتے ہیں منفی یا مثبت لیکن شعور کہاں سے آئے گا جب دو ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ میں گیم کھیلنے کو موبائل فون دے دیا جائے گا لو جی خلاصی ہوئی اب اماں گئیں فیس بک پہ تو ابا جان واٹس ایپ کو پیارے ہو گئے سب سے بڑاخطرناک معاملہ جس سے قطعی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا وہ ہے فیس بک پہ پھیلے بھیڑیوں اور لومڑیوں کے جال کا ۔ جس طرح ریڈلائٹ ایریاز کو گورنمنٹ نے بند کیا تو وہ لوگ جو اس ایریا میں رہتے پہچانے جاتے تھے اب وہ لوگ معزز گھروں کے درمیان پھیل چکے ہیں تو ایسے ہی شکاری بہت معزز اور مذہبی افراد کے بھیس میں میٹھی زبانیں لئے شکار گھیرتے پھرتے ہیں ان کو پہچاننے کا کوئی آلہ ابھی نہیں بنا ان مشینوں میں لیکن ایک آلہ احتیاط اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اس کا استعمال ضرور کریں اور اس فتنے یعنی فیس بک کا استعمال ضروری ہو تو کریں میڈیا اچھا یا برا نہیں ہے دراصل اس کے استعمال پہ منحصر ہے کہ آپ اس کو سہولت بناتے ہیں اپنے لئے یا باعث زحمت ،میڈیا کے ہر میڈیم میں اعتدال ہی اس کے نقصانات سے بچنے کا حل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں