26

غیر مسلموں سے مشابہت کا مسئلہ

غیر مسلموں سے مشابہت کا مسئلہ۔ ڈاکٹر محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ ہم مسلمانوں کو غیر مسلموں سے مشابہت کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس کا کیا معنی ہے؟ کیا اس سے مراد لباس، پہننے اوڑھنے، اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے طور طریقے ہیں، یا عبادت کی مشابہت مراد ہے، یا اس سے مراد عقائد میں مشابہت ہے۔ جواب: سنن ابو داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مَن تَشَبَّه بقومٍ فهو منهم۔ ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے۔ تو غیر مسلموں سے مشابہت جائز نہیں ہے، ایک بات تو یہ ہو گئی۔ لیکن مشابہت میں کیا شامل ہے اور کیا شامل نہیں ہے، یہ اہم سوال ہے۔

خود عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں، مسجد کے لیے گنبد اور مینار کو جائز نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے خیال میں یہ یہود ونصاری کی عبادت گاہوں سے مشابہت میں شامل ہے کہ جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔ اور آج ہماری کوئی مسجد، گنبد اور مینار کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے۔ تو ہماری نظر میں تعمیر کی مشابہت اس میں شامل نہیں ہے کہ جس مشابہت سے منع کیا گیا ہے کیونکہ تعمیرات کا تعلق تمدن (civilization) سے ہے نہ کہ تہذیب اور ثقافت (culture) سے۔ اور جس مشابہت سے منع کیا گیا ہے، اس کا تعلق تمدن سے نہیں بلکہ تہذیب، کلچر اور ثقافت سے ہے۔

تمدن، مدنیت سے ہے یعنی شہری زندگی۔ تو دیہاتی زندگی سے شہری زندگی کی طرف آنا دین اسلام میں بالکل منع نہیں ہے۔ پہلے اگر لکڑیوں کی چھت ہوتی تھی تو اب لینٹر ایجاد ہو گیا۔ پہلے اگر گھوڑے پر سفر ہوتا تھا تو اب گاڑی اور جہاز میں ہوتا ہے۔ پہلے اگر خط لکھا جاتا تھا تو اب ای۔میل کی جاتی ہے۔ تو یہ سب تمدن کی ترقی ہے کہ جس میں مشابہت منع نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد محض عقائد کی مشابہت ہے، یہ قول بھی درست نہیں ہے کہ مشابہت تو اصلا ہوتی ہی عادات اور رسوم و رواج میں ہے۔ تو ہماری رائے میں مشابہت سے بچنے کا حکم دراصل مسلمانوں کی ثقافتی شناخت (cultural identity) کو دوسری اقوام سے علیحدہ اور باقی رکھنے کے لیے دیا گیا۔

کثیر الثقافتی معاشروں (multi cultural societies) میں غیر مسلموں سے مشابہت کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے شناخت کے بحران (identity crises) کا مسئلہ پیدا ہو گا حتی کہ ایک مسلمان اورسکھ کا فرق ختم ہو جائے گا۔ آسان الفاظ میں مسلم شناخت باقی رکھنے سے مراد یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی آباد ہوں تو پہلی نظر میں ہی دِکھنے پر دیکھنے والا یہ جان لے کہ یہ مسلمان ہے۔ تو ایک تو مشابہت کے مسئلے کا تعلق تہذیب اور کلچر سے ہے اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کی تہذیبی و ثقافتی شناخت سے متعلق ان شرعی احکامات میں سے بعض دائمی ہیں جیسا کہ داڑھی اور پردے کا حکم اور بعض عارضی ہیں جیسا کہ بالوں اور لباس سے متعلق حکم۔ تو ہمارے دین میں بہت سی ہدایات کا تعلق ہماری کلچرل آئیڈنٹی یعنی ثقافتی شناخت باقی رکھنے سے ہے نہ کہ وہ حکم بطور عبادت دیا گیا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے۔

صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: فعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : (كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ، فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ)۔ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل کتاب اپنے بالوں میں “سدل” کرتے تھے یعنی بال ماتھے پر چھوڑ دیتے تھے اور مشرکین بالوں کے درمیان میں سے مانگ نکالا کرتے تھے۔ اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب تک وحی نہیں آتی تھی، اس وقت تک اہل کتاب کی موافقت کرتے تھے۔ پس آپ شروع میں تو ماتھے پر بال چھوڑا کرتے تھے لیکن آپ کا آخری عمل یہ تھا کہ آپ درمیان میں سے مانگ نکالتے تھے۔

اب کچھ علماء نے آخری عمل مانگ نکالنے کو قرار دے کر اسے ہی مستحب یا قابل اتباع سنت قرار دے دیا حالانکہ ہماری نظر میں یہ سوچ درست نہیں ہے۔ سادہ سی بات یہی ہے کہ مشرکین چونکہ درمیان سے مانگ نکالتے تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بال اپنے ماتھے پر چھوڑ دیا کرتے تھے تا کہ مکی معاشرے میں مشرکین کے مقابلے مسلم شناخت برقرار رہے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں یہود ماتھے پر بال چھوڑتے تھے تو آپ نے یہودیوں سے مسلمانوں کا فرق رکھنے کے لیے درمیان سے مانگ نکالنا شروع کر دی۔

تو نہ ہی ماتھے پر بال چھوڑنا کوئی دینی حکم تھا اور نہ ہی درمیان سے مانگ نکالنا کوئی شرعی حکم تھا بلکہ اصل حکم کثیر الثقافتی معاشرے میں مسلمانوں کی شناخت کو باقی رکھنا تھا لہذا مکہ میں وہ اور تھا اور مدینہ میں اور ہو گیا۔ اور یہاں اصل حکم مخالفت بھی نہیں تھا، یہ بھی کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم مخالفت کے اصول پر کھڑے ہیں۔ بھئی ہمیں دوسروں کی مخالفت نہیں بلکہ اپنی علیحدہ شناخت کے اصول پر کھڑا ہونا ہے اور یہی ہمارے دین کا مقصود ہے۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم رسومات اور عادات کے خالق نہ بنیں۔ ایسی رسومات اور عادات جو ہمارے دینی مزاج پر قائم ہوں۔ جنم دن کے عنوان سے تحریر کا تعلق اسی تناظر سے ہے جبکہ کچھ لوگ مغربی تہذیب کے غلبے میں ہماری مغلوبیت تلاش کرنا شروع ہو گئے۔ بہرحال انہیں ان کا فہم مبارک ہو اور ہمیں ہمارا کام۔

اگر ہم اپنے تہذیبی اصولوں کی بنیاد پر نت نئی رسومات اور عادات پیدا نہیں کریں گے تو ہم ہمیشہ دوسری تہذیبوں کے سامنے فقیروں کی طرح ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوں گے اور ہمارے بہترین دماغ ان کے تہذیبی سیلاب کے سامنے بند باندھنے میں مصروف ہوں گے۔ آپ دنیا کو دینے کی پوزیشن لے لیں، آپ کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پھر مغرب آپ کی تہذیبی یلغار سے خوفزدہ ہو گا نہ کہ آپ۔ ابھی تو ہم اپنی تہذیب کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں نہ کہ پھیلاؤ اور وسعت کی۔ اور وہی تہذیبیں اپنے آپ کو پھیلا سکتی ہیں جو دنیا کو کچھ دینے کی پوزیشن میں ہوں۔ جب آپ نے پوزیشن ہی یہ لے لی کہ ہر رسم بدعت ہے اور ہر رواج حرام ہے تو آپ ساری زندگی دوسروں کی تہذیبوں کے سامنے بند ہی باندھتے رہیں گے، آپ نے کیا خاک ان کے لیے خطرہ بننا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں