49

اکتاہٹ سے بچیے- خطبہ جمعہ مسجد حرام(خانہ کعبہ)

اکتاہٹ سے بچیے۔ خطبہ مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہ

جمعۃ المبارک 7 ربیع الآخر 1440ھ بمطابق 14 دسمبر 2018ء

عنوان: اکتاہٹ سے بچیے۔

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ:

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ وہی کائنات کو پیدا کرنے والا ، دنیا کی ہر چیز کو تخلیق کرنے والا ہے۔ وہی رزق  بانٹنے والا ، وہی عطائیں دینے والا اور نوازشیں کرنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے، عدل کے مطابق اپنا فضل وکرم عطا فرما دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق محروم کر دیتا ہے۔ اس کی عطاء کو کوئی نہیں روک سکتا اور اس کی روکی چیز کوئی دے نہیں سکتا۔ اس کے مقابلے میں کسی کی طاقت کام نہیں آ سکتی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ اللہ کے دیے پر راضی، اللہ کے لکھے پر قناعت کرنے والے، اچھے دنوں میں شکر کرنے والے اور برے دنوں میں صبر کرنے والے تھے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی بہت سلامتی نازل ہو۔

بعدازاں!

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! تم تقویٰ کے ذریعے گمراہی سے سے بچ سکتے ہو اور غلط راستوں سے محفوظ ہو سکتے ہو، دنیا کی عزت اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکتے ہو۔

اے مسلمانو!

لوگوں کے رزق، آمدنی اور ان کے نصیب صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ ہی یہ چیزیں اپنے بندوں میں تقسیم کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے

امام بغوی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: یعنی وہ جس کا رزق چاہتا ہے، کشادہ کر دیتا ہے، اور جس کا چاہتا ہےتنگ کر دیتا ہے۔ وہی مکمل عدل اور حکمت والا ہے۔

یہ بھی اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے لوگوں کے رزق میں فرق رکھا ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دیا ہے۔ کسی کو دیتا ہے پھر اُسے اسی چیز سے محروم کر دیتا ہے، کبھی اس کے برعکس کر دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو پہچان نہ سکے اور ان کی ناقدری اور تحقیر کرنے لگے، پھر وہ ان سے تنگ آ جائے اوراس کا دل بھر جائے، وہ ان سے بیزار ہو جائے اور بے تابی میں رہنے لگے۔ یہ چاہتاہے کہ یہ نعمتیں چھن جائیں اور ان کی جگہ دوسری نعمتیں مل جائیں۔ اس حوالے سے ہمارے لیے پچھلی قوموں میں بہت بڑا سبق ہے۔ بنی اسرائیل نے اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ مَنُّ وسلویٰ کی جگہ کوئی اور کھانا دیا جائے، کہ وہ اس سے اکتا گئے تھے اور تنگ آ گئے تھے چنانچہ انہوں نے اس کی جگہ اس سے کم تر چیز کو اختیار کر لیا۔ ساگ، کھیرے، گندم، دال، پیاز کو پسند کر لیا۔ سب سے افضل اور شاندار کھانوں کو چھوڑ کر انہوں نے ان  سےکم تر چیز کا مطالبہ کر دیا۔

اسی طرح قومِ سبأ، جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کی برکھا خوب برسائی اور مشکلات سے مکمل حفاظت عطا فرمائی، انہیں دنیا میں  دو عظیم باغ عطا فرمائے، جو پھلوں سے لدے رہتے تھے، ان کے شہر کا ماحول بہترین بنایا، اسے گندگی اور غلاظت سے پاک فرمایا اور انہیں وافر  رزق عطاء فرمایا۔ مگر انہوں نے اللہ کے شکر کی بجائے ناشکری اور نعمت سے اکتاہٹ کا اظہار کیا، اور یہ مطالبہ کیا کہ ان کی بستیاں دور دور کر دی جائیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ انتہائی قریب رہتے تھے ،آنا جانا انتہائی آسان تھا۔ وہ امن وامان میں بھی رہ کر تنگ پڑ  گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا دی اور ان پر سیلاب کا عذاب نازل کر دیا۔ ان کے باغوں کو تلف کر دیا۔ وہی جنتیں، جو دلفریب باغوں سے پھلوں سے گھنے درختوں بھری تھیں، اب بے فائدہ جھاڑیوں کا  جنگل بن گئیں۔

اے مسلمانو!

اللہ کی نعمتوں سے اکتاجانا بہت بڑی آفت ہے، جس کی وجہ سے انسان کو موجودہ نعمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ جس کے بعد وہ یقینی طور پر یہ تمنا کرے گا کہ وہ اللہ کی دی گئی نعمتوں پرہی راضی رہتا۔ اس آفت کے متعلق ابن القیم علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

بہ بہت عام اور چھپی آفت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چنیدہ اور عطا کردہ نعمت انسان کو میسر ہو اور وہ اس سے اکتا جائے اور اسی اپنی جہالت کی بنا پر ایسی چیز سے تبدیل کرنے کا مطالہ کرنے لگے جسے وہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے بہتر سمجھتا ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ اس کی جہالت کو دیکھتے ہوئے اس کے برے اختیار کو پورا نہ کر رہا ہو بلکہ اس کی بہتر نعمت ہی قائم رکھ رہا ہو، اور وہ اس نعمت سے بہت تنگ آ جائے اور تنگ دل ہو جائے اور اکتاہٹ اپنے عروج کو پہنج جائے تو اللہ نعمت چھین لے۔ جب وہ اپنی مانگی ہوئی نعمت حاصل کر لے اور پھر گزشتہ اور حالیہ نعمت میں تقابل کرے تو وہ افسوس اور سخت ندامت کا شکار ہو جائے، پھر پچھلی چھنی نعمت کا مطالبہ کرنے لگے۔ ایسی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ انسان کو کامیابی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو وہ اسے گواہ بنا لیتا ہے کہ یہ دوسری نعمت بھی اللہ ہی کی عظیم نعمت ہے، اسی سے راضی کر دیتا ہے اور شکر کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔

جی ہاں اللہ کے بندو! لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں جانتے۔ وہ شکایتیں ہی کرتے رہتے ہیں اور تنگ دلی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

عبد اللہ بن ابی نوح فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ساحل پر کھڑے ہو کر مجھے کہا: اللہ کے نام پاکیزہ ہیں، کتنی مرتبہ تم  نےاللہ کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف سلوک کیا ہے اور جواب میں اس نے تمہارے ساتھ تمہاری مرضی کے مطابق سلوک کیا ہے۔ میں نے کہا: ایسا تو بہت دفعہ ہوا ہے۔،میں تو  اسے شمار ہی نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا: تو کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی سختی میں تو نے اس کا رخ کیا ہو اور اس نے تجھے رسوا کر دیا ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں! کبھی نہیں۔ بلکہ اس نے مجھ پر احسان ہی کیا اور میری مدد ہی فرمائی۔ اس نے کہا: کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ تم نے اس سے کچھ مانگا ہو اور اس نے تجھے دے دی ہو؟ میں نے کہا: کیا اس نے کبھی میری کوئی امید توڑی بھی ہے؟ میں نے اس سے جب بھی مانگا، اس نے اس نے ضرور دیا، جب بھی اس سے مدد مانگی، اس نے ضرور کی۔ اس نے کہا: اگر کوئی انسان تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرتا تو تم اسے کس طرح جزا دیتے؟ میں نے کہا: میں ایسے شخص کو انعام دینے سے قاصر ہوں۔ اس نے کہا: تمہارا پروردگار اس چیز کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اپنے آپ کو اس کے قریب کرو، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو کیونکہ پہلے بھی وہی تیرا محسن تھا اور آج بھی وہی محسن ہے۔ اللہ کی قسم! اس کا شکر ادا کرنا اس کے بندوں کو انعام دینے سے آسان ہے۔ وہ اپنی تعریف ہی شکر شمار کرتا ہے۔

تو اللہ کے بندو! ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں۔ اللہ کی نعمتیں سب کے سامنے بیان کریں اور شکر کا مظاہرہ کریں۔

امام طبرانی نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے فلان!تونے کس حال میں صبح کی؟ اس نے کہا، میں اللہ کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم سے یہی چاہتا تھا۔ یعنی کہ تم اللہ کا شکر اور اس کی حمد وثنا بیان کرو۔

جب ابن المغیرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اے ابو محمد؟ تونےکس حال میں صبح کی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی نعمتوں میں غرق، شکر سے عاجز، ہمارا پروردگار ہم سے بے نیاز ہونے کے باوجود ہمارا پیار جیتنے  کی کوشش کرتا ہے اور ہم اس کے محتاج ہونے کے باوجود اسے ناراض کرتے ہیں۔

یہ ہیں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں: جب تک میرے کپڑے مجھے پورے آتے ہیں، میں ان سے کبھی نہیں اکتاتا، میری بیوی جب تک میرے ساتھ اچھی رہتی ہے، میں اس  سے بھی نہیں اکتاتا، جب تک میری سواری مجھے اٹھاتی ہے، میں اس سے بھی نہیں اکتاتا۔ اکتاہٹ برے اخلاق میں سے ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا۔ اکتاہٹ واقعی بہت برا اخلاق اور مذموم صفت ہے۔ اس کی وجہ سے انسان اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے، ان سے تنگ پڑتا ہے، رزق میں اللہ کی تقسیم سے ناراض ہوتا ہے۔ یہ بات کتنی بری ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں اور عطاؤں میں ہو، اس کے باوجود وہ نعمتوں سے تنگ پڑ جائے اور نا شکری کرنے لگے۔

ابن القیم علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: انسان کے لیے اللہ کی نعمتوں سے اکتاہٹ سے زیادہ نقصان دہ چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جب انسان اکتا جاتا ہے تو وہ نعمت کو نعمت نہیں سمجھتا، اس پر شکر ادا نہیں کرتا، اس سے خوش بہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس سے تنگ دل ہو جاتا ہے اور اسی کی شکایت کرنے لگتا ہے اور اسے مصیبت سمجھنے لگتا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عظیم نعمت ہوتی ہے۔

اکثر لوگ اللہ کی نعمتوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ انہیں اللہ کی نعمتوں کی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے زیادتی کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کتنی نعمتیں   کچھ لوگوں کا رخ کرتی ہیں اور وہ پورا زور لگار کر اسے دور دھکیل دیتے ہیں، کتنی نعمتیں ان کے پاس پہنچ جاتی ہیں اور وہ اپنی جہالت کی بناپر زیادتی کرتے ہوئے انہیں روکنے اور ہٹانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

ذلک بأن اللہ لم یک مغیرا

تو اے مسلمانو! لوگ موجودہ نعمتوں سے کس طرح تنگ پڑ جاتے ہیں، انہیں حقیر کس طرح سمجھنے لگتے ہیں اور کم تر نعمتوں کی تمنا کیوں کرنے لگتے ہیں جبکہ بہتر نعمتیں پہلے سے ہی ان کے پاس ہوتی ہیں؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: فلاں مجھ سے افضل کیوں ہے؟ میں دوسروں سے کم تر کیوں ہوں ؟ اگر کسی نعمت سے کچھ عرصہ سے لطف اندوز ہوتا رہے، توحقارت کے ساتھ کہنے لگتا ہے: کیا ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور نعمت نہیں ہے؟ اللہ کی نعمت سے تنگ ہو جاتا ہے، اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا اور الہ کے دیے پر قناعت نہیں کرتا۔

ایسے لوگ دنیا کو درست نگاہ سے دیکھنا کیوں نہیں جانتے؟ امام مسلم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیاوی نعمتوں کے حوالے سے کم تر لوگوں کی طرف دیکھو، بہتر لوگوں کی طرف نہ دیکھو۔ ایسا کرنے سے تم اللہ کی نعمتوں کی ناقدری  سے بچ جاؤ گے۔

یعنی اگر اللہ کے دیے پر راضی ہو جاؤ گے اور دوسروں کے ہاتھ میں دی گئی نعمتوں پر نظر نہیں اٹھاؤ گے تو شکر کی توفیق ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ انسان اگر قناعت پسندی اپنا لے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اور اگر لالچ میں آ جائے تو غلام بن جاتا ہے۔

اللہ کے بندے! اگر تجھے تعجب ہوتا ہے، تو زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ایسی چیزیں حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہے جو اس کے لیے لکھی ہی نہیں گئیں، یا چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نعمتیں جمع کر لے تاکہ اعلیٰ معاشی زندکی گزارے، یا عیش وآرام میںزندگی بسر کرے اور شاندار نعمتوں میں رہے۔ ایسے بچارے کو یہ علم نہیں ہوتا کہ قناعت جیسی کوئی چیز نہیں، کیونکہ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس دنیاوی رزق کی فراوانی ہے مگر وہ محروم ہیں۔ قناعت اور رضا مندی سے محروم ہیں۔ مزید کی دوڑ میں ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہیں کشادہ رزق اور رنگا رنگ نعمتیں ملیں اور وہ آپے سے باہر ہو گیا اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے لگا تو نعمتیں بھی وبال بن گئیں۔

بھائیو! موجودہ صورت حال میں بہت سے لوگ اکتاہٹ کا شکار ہیں، تنگ دلی اور مایوسی کے عالم میں ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ تعلق باللہ مضبوط نہیں ہے، فرمان برداری کا فقدان ہے اور منہج الٰہی سے رو گردانی ہے۔ اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ بڑھاپے میں انسان اپنی زندگی سے تنگ پڑ جائے۔ جیسا کہ دورِ جاہلیت کے شاعر نے کہا تھا:

تھک گیا ہوں میں، زندگی  کےبوجھ سے

اور جسے اسی سال جینا پڑے، میرے بھائی! وہ تنگ پڑ ہی جاتا ہے۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے آپ کو موت کی بد دعا دے، بھول جائے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے خبردار فرمایا تھا۔ فرمایا:

کسی مصیبت یا تنگی کی وجہ سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر کرنی ہی ہو تو یہ کہے: اے اللہ! جب تک زندگی بہتر ہے، اسے دراز کرتا جا اور جب موت بہتر ہو تو مجھے اپنے پاس بلا لے۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

لوگ وہ بھی ہیں جو اپنے والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ احسان کر رہے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ نیکی کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ رہنے کو نا پسند کرنے لگتے ہیں اور ان کی صحبت سے تنگ ہو جاتے ہیں۔ ان کے احسانوں اور ان کے ساتھ تعلق تک کے منکر ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ دشمنی کرنے لگتے ہیں، انہیں اذیت دینے لگتے ہیں، ان سے تنگ پڑنے لگتے ہیں، انہیں نازیبا الفاظ اور جملے سنانے لگتے ہیں، ان کے احساسات مجروح کرنے لگتے ہیں، ان کے فضائل بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کون سی گستاخی ہو سکتی ہے؟ کیا اس نا شکرے کو والدین کے حقوق کا کوئی علم نہیں؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ برا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ فرمایا:

تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو

یہاں بیٹوں کو ہر ایسی چیز سے منع کیا گیا ہے جس  سےیہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ اپنے والدین سے تنگ ہے یا وہ انہیں بوجھ سمجھتا ہے۔

ایسےلوگ بھی ہیں جو قرآن کریم سیکھنا شروع کرتے ہیں یا  دینی علوم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جلد ہی تنگ پڑ جاتے ہیں اور راستے کو طویل سمجھنے لگتے ہیں۔ ثابت قدم نہیں رہتے بلکہ جلدی مچاتے ہوئے کسی دوسرے علم کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ علم کو آہستہ آہستہ نہیں سیکھتے اور کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کرتے۔ صبر وتحمل اختیارنہیں کرتے۔

ایسے بھی ہیں کہ لوگوں کو دین کی طرف لانے، انہیں وعظ ونصحیت کرنے اور رہنمائی کرنے میں جن کا بڑا کردرا ہوتا ہے، مگر جب تھوڑا وقت گزرتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ہی چیز بار بار دھرانے کا، یا اس راستے پر چلنے یا قائم رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یا اس راستے میں ہٹدھرم یا متکبر کا سامنا ہوتا ہے جو حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے، تو وہ لوگوں کے فائدے سے امید توڑ دیتے ہیں اور مایوس ہو جاتے ہیں اور اس راہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی نیک اور فضیلت والا کام کر رہے تھے۔

ایسے بھی ہیں جو کوئی خیراتی کام کرتے ہیں۔ نیک کام کرتے ہیں یا قرب الٰہی کی غرض سے کوئی عمل سرانجام دیتے ہیں، لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، محتاجوں اور فقیروں کی مدد کرتے ہیں، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتیں آسان کرتے ہیں، یتیموں کی کفالت کرتے ہیں، لوگوں میں صلح کراتے ہیں، مگر یکا یک  ان سب کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کوئی خاص عذر بھی نہیں ہوتا، نہ کوئی واضح سمجھ آنے والا سبب ہوتا ہے، بلکہ اس کی وجہ صرف اکتاہٹ اور تنگی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ نیکی کو چھوڑ دیتے ہیں  اور اس کے اجر سے محروم ہو جاتے  ہیں ۔

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں! آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ نے ہمیں سنجیدگی سے محنت کرنے کا حکم دیا ہے، تنگ دلی اور اکتاہٹ سے منع فرمایا ہے۔ اے اللہ! رحمتیں اور سلامتی نازل فرما آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔

بعد ازاں!

اللہ کے بندو!

ہمیں اللہ کی طرف جانے والے راستے پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور اپنی سمت درست رکھنے کی کوشش میں رہنا چاہیے۔ گمراہی سے بچنا چاہیے۔ نیکی اور نعمت کی  اکتاہٹ سے بھی بچنا چاہیے۔ اور ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اکتاہٹ کا علاج کرنا چاہیے جو کہ چند چیزوں سے ممکن ہو سکتا ہے۔

اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کیا جائے، کثرت سے دعا کی جائے ، تاکہ ثابت قدمی نصیب ہو جائے اور عمل جاری رہ سکے۔ نبی اکرم ﷺ کی بیشتر دعا یہی ہوتی تھی کہ

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما!

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: معاذ! ہر نماز کے بعدیہ دعا کبھی نہ چھوڑنا:

اے اللہ! اپنا ذکر کرنے میں، شکر کرنے میں اور بہتر طریقےسے عبادت کرنے میں میری مدد فرما! سےے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح اکتاہٹ سے بچنے کے لیے اللہ کے ساتھ سچائی اپنانی چاہیے، چیزوں میں سنجیدگی سختی اپنانی چاہیے، تاکہ انسان سستی اور اکتاہٹ کےجوہڑ سے محفوظ ہو جائے۔ اسی طرح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے ذکر پر سختی سے عمل کرتے تھے، جو آپ ﷺ نے انہیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تھا کہ وہ سونے سے پہلے پڑھ لیا کریں۔ یہان تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ ذکرجنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا تھا جو کہ سخت جنگ اور مصیبت بھری رات تھی۔

اکتاہٹ سے بچنے کے لیے امیدوں کم کرنا اور آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔ ہمت دلانے کے لیے یہ بہت کارگر نسخہ ہے اور اللہ کی طرف متوجہ کرنے والا بہترین راستہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ یاد رکھے کہ دنیا، آخرت کی کھیتی ہے جس میں نیک اعمال کمائے جا سکتے ہیں۔

انسان کو ایسی باتیں ضرور یاد رکھنا چاہییں جو اسے پھر سے توانا کر دیں اور عبادت میں چست کر دیں۔ نیک اعمال پر قائم رہنے والے کو اگر اکتاہٹ محسوس ہونے لگے تو وہ یاد کرے کہ ان اعمال کی فضیلت کتنی زیادہ ہے اور ان کا اجر کتنا بڑا ہے۔

مَسلمہ بن عبد الملک علیہ رحمۃ اللہ علیہ سے مدد مانگنے والے لوگ جب بڑھنے لگتے اور وہ اکتنانے لگتے تو وہ ادیبوں اور شعراء کو بلوا لیتے وہ اخلاق اور بہترین صفات کو یاد کرتے، بھلے لوگوں کا ذکر کرتے اور ان کے واقعات سنتے۔ ان کی ہمت پھر سے بڑھ جاتی اور وہ تازہ دم ہو جاتے، کہتے: اب مدد مانگنے والوں کو لے آؤ۔ پھر جو بھی آتا، وہ حاجت پوری کر کے ہی جاتا۔

اسی طرح اگر انسان عبادت کی قدر واہمیت جانتے ہوئے پورے شرح صدر کے ساتھ نیکی کرے تو اسے نیکی میں مزہ آنے لگے، اسے ایمان کی حلاوت نصیب ہو جائے، اس کی ہمت بلند ہو جائے، عزم مضبوط ہو جائے، کبھی نیکی سے پیچھے نہ ہٹے، لمبی عمر کی دھوکے میں نہ آئے اور اکتاہٹ سے بچ جائے۔

عون بن عبد اللہ بن عتبہ علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، کچھ بات چیت کی، پھر ہم نے کہا: ہم نے آپ کو اکتاہٹ کا شکار تو نہیں کر دیا۔ انہوں نے کہا: نہیں! ہر گز نہیں۔ میں آپ سے نہیں اکتاتی۔ میں نے ہر عبادت کر کے دیکھی ہے، مگر جب میں نے علم سیکھا اور علم کا دور کیا تو میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا۔

انسان کو چاہیے وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ جب بھی غلطی ہو، توبہ کو دھرا لے۔

حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ سے کہا گیا: ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور پھر ان ہی گناہوں کا شکار ہو جاتے ہیں، پھر معافی مانگتے ہیں اور پھر ان ہی گناہوں میں پڑ جاتے ہیں۔ کیا ہم اللہ سے حیا نہ کریں؟ حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ نے فرمایا: شیطان کی تمنا ہے کہ وہ ایسا کرانے میں ہی کامیاب ہو جائے۔ شیطان کی تمنا ہے کہ وہ ایسا کرانے میں ہی کامیاب ہو جائے۔ تو توبہ سے کبھی مت اکتائیے گا۔

اکتاہٹ، تنگ دلی اور تھکاوٹ کا شکار تو گناہ گار کو ہونا چاہیے، اس فاسق کو ہونا چاہیے جو سب کے سامنے کھلے عام گناہ کرتا پھرتا ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ گناہوں سے تنگ آ جائے، ہلاک کرنے والے جرائم سے دور ہو جائے، توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف کرنے والے پروردگار کا رخ کرے۔

اے مسلمانو! اپنے پروردگار کے راستے پر چلنے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے طریقۂ کار کو ملحوظ خاطر رکھو۔ آپ ﷺ کے تو اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے تھے، مگر آپ ﷺ نے پھر بھی عبادت نہیں چھوڑی، بلکہ وہ ہمیشہ اللہ کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے، اسی کا رخ کرتے، اسی کی عبادت میں محو رہتے، کبھی نہ تھکتے، کبھی نہ اکتاتے، کبھی نہ تنگ ہوتے اور کبھی نہ ہمت چھوڑتے۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے درود وسلام بھیجو نبی مصطفیٰ اور رسول مجتبیٰ ﷺ پر۔ فرمانِ الٰہی ہے:

اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو

اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں، یقینًا! تو قابل تعریف اور برزگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں، یقینًا! تو قابل تعریف اور برزگی والا ہے۔

اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین، قابل عمر نمونہ بننے والے ائمہ کرام، ابو بکر، عمر عثمان اور علی سے راضی ہو جا، تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر کرم فرمانے والے! اپنا خاص فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! اپنے اور دین کے دشمنوں کو ہلاک فرما! اس ملک کو اور تمام ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما!

اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں اور گھروں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھ میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، پرہیز گار اور تیری رضا کے طالب ہوں۔

اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہمارے حکمران کو ان اقوال واعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔

اے اللہ! ہمارے کمزور بھائیوں کی مدد فرما! اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد فرما! سرحدوں اور خطرات سے بھری جگھوں پر پہرہ دینے والوں کی حفاظت فرما! اے اللہ! ان کا مددگار اور معاون بن جا! ان کی تائید فرما اور انہیں کامیاب فرما!

 اے اللہ! ہم ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں، نیکی میں پیش قدمی اور عبادت کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ تیری نعمتوں کے شکر کی اور بہترین انداز میں عبادت کی توفیق مانگتے ہیں۔ پاکیزہ دل اور سچی زبان کا سوال کرتے ہیں۔ ہر اس خیر کا سوال کرتے ہیں جسے تو جانتا ہے اور ہر اس شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں جسے تو جانتا ہے۔ جن گناہوں کو تو جانتا ہے ان سے ہم معافی مانگتے ہیں۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے! نماز کے لیے صفیں درست کر لیجیے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں