52

راہِ حق سے ہٹانے والے عوامل

خطبہ مسجد نبوی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی

راہِ حق سے ہٹانے والے عوامل۔ خطبہ مسجد نبوی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی

جمعۃ المبارک 7 ربیع الآخر 1440ھ بمطابق 14 دسمبر 2018ء

عنوان:۔ راہِ حق سے ہٹانے والے عوامل

ترجمہ : محمد اجمل بھٹی، محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ:

سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، اسکے ہاتھ میں ہر قسم کی خیراور بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ ہر شخص کے اعمال دیکھ رہا ہے، ہر کسی کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیتا ہے اور ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اُسے کئی گنا کر دیتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔‘‘(النساء:40)

میں اپنے رب کے بے پناہ فضل و کرم پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبودنہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ خوب جاننے والا اور بڑا باخبر ہے اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ امت کو خوشخبری دینے والے اور اور برائیوں سے ڈرانے والے ہیں اور آپ چمکتا ہوا سورج ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر درود و سلام بھیج جو روشن کتاب دے کر بھیجے گئے ہیں۔ اور آپﷺ کی آل اور صحابہ کرام  پر بھی اپنی رحمتیں اور سلامتی نازل فرما، جن کے ذریعے اللہ نے دین کو سر بلند کیا اور حقیر و ذلیل شرک کو رسوا کیا۔

اس حمد و ثنا کے بعد!

لوگو! نیکی کے کاموں میں جلدی کر کے، حرام کاموں سے بچ کر اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، تم اعلیٰ درجے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور ہلاکت انگیز معاملات سے نجات پا جاؤ گے۔

برادرانِ اسلام!

یقیناً اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کر رکھا ہے اور اس کے وعدوں میں وعدہ خلافی نہیں ہوتی۔ اس کے حکم کو کوئی ٹال بھی نہیں سکتا۔ اس نے اپنے فرمانبردار بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں شاندار دنیاوی زندگی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی شاندار کامیابی نصیب کرے گا۔ انہیں اپنی خوشنودی سے نوازے گا۔ انہیں انبیائے کرام، نیک لوگوں اور صراط مستقیم پر چلنے والوں کے ساتھ دائمی جنتوںمیں ابدی نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے۔‘‘(الاعراف:96)

مزید فرمایا:

’’اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی راہ اختیار کرتے تو ہم اِن کی برائیاں اِن سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے ۔کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کے نظام کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ اگر یہ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اوپر تلے سے رزق برستا اور نکلتا۔‘‘(المائدہ:65-66)

یعنی اگر اہل کتاب قرآن مجید پر ایمان لے آئیں، اس پر عمل کرنا شروع کر دیں اور اپنی کتاب پر بھی بغیر تحریف کیے ایمان رکھیں تو اللہ انہیں دنیا میں بہترین زندگی عطا کرے گا اور آخرت میں نعمتوں والی جنت میں داخل فرمائے گا۔

نوح u نے اپنی قوم کو اللہ کی نعمتوںکا شوق دلاتے ہوئے کہا تھا:

’’میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ۔تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری فرما دے گا۔‘‘(نوح: 10-12)

سیدنا ابوہریرہtبیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جس نے میرے دوست کے ساتھ دشمنی کی میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتا ہوں، اور میرا بندہ جن جن عبادتوں کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا ہے مجھے ان میں فرض عبادت سے بڑھ کر کوئی عبادت پسند نہیں، اور میرا جو بندہ فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مسلسل نوافل ادا کرتا رہتا ہے تو وہ میرا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے، میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، میں اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے کچھ مانگتا ہے ہے تو میں اسے عطا کرتا ہوں۔ اگر کسی دشمن سے میری پناہ مانگتا ہے تومیں اسے محفوظ رکھتاہوں۔ میں جو بھی کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ جسمانی تکلیف کی وجہ سے موت پسند نہیں کرتا اور مجھے اس کو تکلیف دینا برا لگتا ہے۔‘‘ اس روایت کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور رحمت و مہربانی کے ساتھ اپنے فرمانبردار بندوں کے معاملات کی نگہبانی کرتا ہے۔ ان کی زندگی اور موت کے بعد بھی ان کے لیے بہترین تدبیر کرتا ہے۔ ہمارے رب کا ہمارے ساتھ وعدہ سچا ہے، وہ ذرہ برابر وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’پروردگار! تو یقیناً سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں تو ہرگز اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے۔‘‘(آل عمران:9)

مزید فرمایا:

’’اے پروردگار! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے”۔‘‘(آل عمران:194)

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آخرت کا وعدہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’ مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘(التوبہ:72)

مومن اس دنیا میں اپنے رب کے وعدے کو کھلی آنکھوں سے پورا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، اللہ کا فضل و کرم مسلسل ان پر ہوتا ہے اور اس کی نعمتوں کی بارش برستی رہتی ہے جیسا کہ فرمایا:

’’آخرکار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت بھی عطا کیا اللہ کو ایسے ہی نیک عمل کرنے والے لوگ پسند ہیں۔‘‘(آل عمران:148)

 عنقریب آخرت میں بھی وہ اس کا اجر و ثواب اور ابدی نعمتوں کا وعدہ پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ ارشادِ ربانی ہے:

’’بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف دنیا کی زندگی کا سامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟۔‘‘(القصص:61)

جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں سے نعمتوں کا وعدہ کیا ہے، اسی طرح سرکش نافرمانوں اور منکرین کافروں کو سخت وعید بھی سنائی ہے اور انہیں دردناک عذاب سے ڈرایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، وہ جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘(محمد:12)

فرمایا:

’’جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘(الجن:23)

ان کی دنیاوی زندگی بدترین ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

’’ اور جو میرے ’’ذِکر‘‘ (اورنصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں زندگی تنگ ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے”۔‘‘(سورۃ طہ:124)

ارشادِ ربانی ہے:

’’اِن کے مال اور دولت اور ان کی زیادہ اولاد کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھا جانا، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اِنہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے اور یہ جان بھی دیں تو انکار حق ہی کی حالت میں دیں۔‘‘(التوبہ:55)

انسانوں کا ایسے معاملات کے ذریعے امتحان لیا جاتا ہے جو اسے نفع بخش کاموں سے دور کر دیتے ہیں ، اسے ایسے معاملات میں پھنسا دیتے ہیں جو اس کے لیے سخت نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اسے اطاعت و فرمانبرداری سے محروم کرتے ہیں اور گناہوں کو خوبصورت بناتے ہیں۔ یہ امتحان اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ جان لے کہ کون اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے۔ کون اپنی خواہشات کی مخالفت کرتا ہے اور کون ہے جو شیطان کی پیروی کرتا ہے اور خواہشات نفس کا قیدی ہو جاتا ہے۔ اس طرح اللہ ہدایت پانے والوں کو درجات دیتا ہے اور خواہش پرستوں اور گمراہوں کو جہنم کے گڑھوں میں پھینک دیتاہے۔

ارشادِ ربانی ہے:

’’جو لوگ ہماری خاطر محنت کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔‘‘(عنکبوت:69)

انسانی نفس انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، شیطان اسی ذریعے سے انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

’’ نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے ‘‘ (یوسف:  53)

اسی طرح فرمایا:

’’ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے ۔‘‘(النجم:23)

فرمایا:

’’جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘(الحشر:9)

جو نفس جہالت و ظلم کو اپنا لیتا ہے وہ انسان کو اللہ کے وعدوں کی تصدیق سے دور کر دیتا ہے، اسے استقامت اختیار کرنے سے روکتا ہے اور انسان کو راہِ اعتدال سے ہٹا دیتا ہے۔

امام ابن قیم hفرماتے ہیں:

’’جو شخص اپنے نفس اور اس کی فطرت کو سمجھ لے وہ جان لیتا ہے کہ اس کا نفس ہی ہر برائی کا سر چشمہ اور ہر شر کا ٹھکانا ہے اور اس میں موجود ہر خیر و بھلائی خالص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا۔‘‘(النور:21)

کوئی نفس جہالت سے نہیں بچ سکتا سوائے اس کے کہ وہ علمِ نافع حاصل کرے، جو شریعت کی شکل میں موجود ہے۔ کوئی نفس صالح اعمال کیے بغیر ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ایک مسلمان کو ہمیشہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کرنا اور اپنے نفس کی اصلاح کے لیے اس سے التجا کرتے رہنا چاہیے۔

سیدنا زید بن أرقمt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ’’اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما۔ اس کا تزکیہ فرما، بلاشبہ تو ہی بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا دوست اور آقا ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں جو تجھ سے ڈرتا نہ ہو، ایسے نفس سے پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہیں ہوتا، اور ایسی دعا سے بھی پناہ مانگتا ہوں جو قبول نہ ہو۔‘‘ (اسے امام مسلم h نے روایت کیا ہے۔)

سیدنا عمران بن حصینt كروایت کرتے ہیں کہ نبی کریم e نے حصين tکو یہ دو دعائیں سکھائی تھیں: ’’اے اللہ! مجھے میری ہدایت الہام فرما دے اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما دے دے۔‘‘

جس شرعی علم اور نیک اعمال کے ذریعے نفس کا تزکیہ نہ کیا جائے تو اس پر جہالت اور ظلم کا غلبہ ہوجاتا ہے، نیز خواہش نفس کے ساتھ اس کا اتحا دہو جاتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے وعدوں کو جھٹلاتا ہے، شہوت کی پیروی کرتا ہے، وہ خسارے، عذاب اور پستی کے گڑھوں میں جا گرتا ہے۔ اس طرح وہ دنیا اور آخرت میں خسارہ پاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

’’اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا۔‘‘ (القصص:50)

جب شرعی علم اور نیک اعمال کے ذریعے نفس کو پاکیزہ بنا لیا جاتا ہے تو وہ اللہ کے وعدوں کی تصدیق کرنے لگتا ہے۔ مطمئن ہو کر اپنے رب کی طرف رکوع کرنے والا بن جاتا ہے، اسے موت کے وقت عزت و اکرام کی خوشخبری ملتی ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:

’’ اے نفس مطمئن! چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے نیک انجام سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے ۔شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں ۔اور داخل ہو جا میری جنت میں ۔‘‘(الفجر:27-30)

ہر خیر و بھلائی کا لٹیرا، ہر برائی اور شر کا داعی، انسان کا دشمن شیطان مردود ہے۔ ہم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس پلید اور نجس کو اللہ تعالیٰ نے انسانوںکے لیے آزمائش بنایا ہے جس نے اس کی اطاعت کی وہ سب سے برا ہو گا اور جو شیطان کا نافرمان ہو گا وہ بہترین منزلوں کا حقدار ہو گا۔ شیطان کی لذت اورسرور اور انعام لوگوں کو گمراہ کرنا اور فساد کرنا ہے۔ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے وعد ے وعید جھٹلانے پر ابھارتا ہے۔ حرام کاموں کو مزین کر کے دکھاتا ہے، اسے فرائض اور نوافل کی ادائیگی سے روکتا ہے، اسے جھوٹی تمناؤں میں الجھاتا ہے اور خبیث وسوسوں سے دھوکہ دیتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’در حقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنے پیروؤں کو اپنی راہ پر اس لیے بلا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘(فاطر:6)

اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا جبکہ وہ جہنم میں اپنے پیروکاروں سے خطاب کرے گا۔

’’اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد سن سکتا ہوں اور نہ تم میر ی، اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے۔‘‘(ابراہیم:22)

شیطان انسانوں کو سات طریقوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

انسان سے کفر کرواتا ہے، اللہ کی پناہ۔ اگر انسان اس کی اس چال میں آجائے تو شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ وہ اسے اپنے خسارہ پانے والے گروہ میں شامل کر لیتا ہے اور اگر انسان اس کی کفر کی یہ دعوت قبول نہیں کرتا، تو وہ اسے بدعت اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے،ا گر انسان سنت نبوی پر گامزن ہونے اور کتاب اللہ پر کاربند ہونے کی وجہ سے بدعت میں مبتلا ہونے سے بچ جائے تو شیطان اسے کبیرہ گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے کبیرہ گناہ خوبصوت بنا کر پیش کرتا ہے، وہ اسے توبہ کرنے میں تاخیر کرنے پر ابھارتا ہے جب وہ کبیرہ گناہوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے ، حتی کہ و ہ اس پر پورا غلبہ پا لیتا ہے تو انسان ہلاک و برباد ہو جاتا ہے۔ اگر انسان کبیرہ گناہوں سے بچ جائے تو وہ اسے چھوٹے گناہوں کی دعوت دیتا ہے اور انہیں معمولی بنا کر پیش کرتا ہے۔ جب انسان چھوٹے گناہوں کو بکثرت کرنے لگتا ہے اور ہمیشہ کرنے لگتا ہے تو وہ کبیرہ گناہ بن جاتے ہیں، توبہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔

اگر انسان چھوٹے گناہوں میں بھی نہ پھنسے تو وہ اسے بکثرت مباح کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ اسے اطاعت سے روک سکے،ا سے آخرت کی تیاری اور زادِ راہ لینے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر انسان اس وار سے بھی بچ جائے تو وہ اسے فضیلت والے کاموں سے روک کر معمولی کاموں کی طرف لگانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ا سے معمولی ثواب حاصل ہو، کیونکہ نیک اعمال کا ثواب بھی مختلف ہے۔ کسی کا کم اور کسی کا زیادہ ۔ اگر شیطان ان تمام حیلوں میں ناکام ہو جائے تو وہ مومن بندوں پر اپنے لشکر اور چیلے مسلط کر دیتا ہے جو اسے طرح طرح کی تکلیفیں اور نقصان دیتے ہیں۔

شیطان کے شر سے پناہ لینے کے لیے ہر وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ مسلسل ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے۔ نماز پنجگانہ کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ یہ قلعہ، پناہ گاہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ پر توکل کرنے، شیطان کے ساتھ مسلسل جہاد کرنے اور انسانوں پر ظلم کرنے سے بچ کر شیطان کے شر سے بچا جا سکتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘(فصلت:36)

راہِ حق، استقامت اور خیر و سلامتی سے روکنے والے امور میں سے ایک دنیا کی محبت اور رضامندی بھی ہے۔ دنیا کو حلال و حرام کے ذریعے سے جمع کرنا اور اس کی طرف مکمل جھکنا ہے اور آخرت کو بھول جانا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا ارتکاب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے۔‘‘ (یونس:7-8)

فرمایا:

’’کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا نکلے گا۔‘‘(توبہ:38)

دنیا انسان کی دشمن ہے اس صورت میں کہ جب وہ انسان کے دل پر غالب آ جائے، یعنی جب انسان اسی کا ہو کر رہ جائے اور آخرت کے لیے عمل کرنے سے رک جائے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ دنیاداروںکی اکثریت دنیا ہی کو ترجیح دیتی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

’’مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ۔حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘( اعلیٰ: 16-17)

نیز فرمایا:

’’سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیٹرھا ہو جائے یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں ۔‘‘(ابراہیم:2،3)

دنیا کے نقصانات اور شر سے نجات اور اس کے برے حالات سے بچاؤ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ دنیا کا مال و متاع جائز اور حلال طریقوں سے کمایا جائے، بغیر بخل اور فضول خرچی کے اللہ کے حلال کردہ کاموں میں اسے خرچ کیا جائے۔ مخلوق الٰہی پر تکبر و غرور کا اظہار ہو نہ حقوق العباد پر دست درازی ہو۔ فخر و غرور سے بچ کر ہی اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے۔

یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ا س کی حقیقت کو سمجھا جائے، یہ دھوکے کا سامان ہے، بہت جلد زوال پزیر ہونے والا ہے، اس کے حالات بڑی تیزی سے بدلتے ہیں، انسان کو یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔ اسی سے انسان کے دل کی اصلاح ہو سکتی ہے۔

نبی کریم eنے فرمایا: ’’آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈبو کر باہر نکالے تو دیکھے کہ کتنا پانی ساتھ نکلا ہے؟ (اس روایت کو امام احمد، ترمذی ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔)

انسان کو اس کے شر اور انجام سے ڈرتے رہنا چاہیے، اسے ڈرنا چاہیے کہ اسے شیطان کہے: اللہ نے تمہیں دنیا کا یہ مال و دولت تمہاری فضیلت و مہارت اور علم و تجربہ کی بنا پر دیا ہے، جیسا کہ قارون کو دھوکہ ہوا تھا، پھر اس کا عبرتناک انجام تو سبھی کو معلوم ہے۔

انسان کے لیے بہت اہم کام یہ بھی ہے کہ اسے دنیا کی دولت میں اللہ کا حق ادا کرتے رہنا چاہیے، مخلوق کے واجب حقوق بھی ادا کرتے رہنا چاہئے، اس سے مراد: زکوٰۃ دینا، بیوی بچوں کے اخراجات ادا کرنا، مہمان نوازی کرنا، محتاجوں کی مدد کرنا، خیرو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا ہے، ان تمام کاموں میں بھی ریاکاری، واہ واہ اور شہرت کا حصول مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ ریاکاری سے عمل باطل ہو جاتا ہے۔

بلند مقام صحابہ کرام کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی اس کے باوجود دنیا کے مال میں وہ سب سے بڑے زاہد تھے۔ جناب ابو سلیمان فرماتے ہیں: ’’سیدنا عثمان اور عبدالرحمن بن عوف wدنیا میں اللہ تعالیٰ کے دو خزانچی تھے، وہا پنے خزانے اللہ کی اطاعت میں خرچ کرتے تھے۔ ‘‘

ان کے قلبی معاملات اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ تھے۔

حدیث شریف میں ہے: ’’تم دنیا کے معاملات میں بے نیاز ہو جاؤ، تمہیں اللہ کی محبت حاصل ہو جائے گی، لوگوں کے مالوں سے بے نیاز ہو جاؤ، تم لوگوں کے محبوب بن جاؤ گے۔‘‘ (اس روایت کو امام ابن ماجہ hنے روایت کیا ہے۔)

لوگوں کے مال سے بے نیاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر زیادتی نہ کی جائے اور نہ ان کے حقوق ہڑپ کیے جائیں اور نہ ان کی نعمتوںکے زوال کی تمنا نہ کی جائے۔ ان کے مالوں سے بے پروا ہو جائے اور ان سے جھگڑا نہ کیا جائے۔

قابل تعریف اور عظیم ترین زہد میں سے یہ بھی ہے کہ انسان دنیاداری میں بلندی کا طالب نہ ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھَلائی تقویٰ والو ہی کے لیے ہے۔‘‘(قصص:83)

اللہ تعالی مجھے اور تمہیں قرآن مجید سے نفع عطا فرمائے۔ ہمیں اس کی پر حکمت آیات سے فائدہ عطا فرمائے، رسول کریم e كکی سیرت اور آپ کے فرامین عالی سے ہمیں نفع نصیب کرے۔ میں انہی کلمات پر خطبہ ختم کرتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے اپنے، تمہارے اور تمام مسلمانوں کے لیے بخشش کا سوال کرتا ہوں۔ تم بھی اس سے توبہ کرو۔ بلاشبہ وہ بڑا مہربان اور رحیم ہے۔

دوسرا خطبہ:

سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، اول، آخر سب تعریفیں میرے رب کیلئے ہیں، اس کے بڑے پیارے پیارے نام ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں اس عالی صفات کے ساتھ اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے اور برگزیدہ رسول ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر اپنی رحمت و سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔ آپ کی آل اور متقی صحابہ کرام پر بھی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔

بعد ازاں!

لوگو! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور اس کے مضبوط ترین دین پر کاربند ہو جاؤ۔

بندگانِ الٰہی!

بے شک ہمارا رب فرماتاہے:

’’لوگو، اللہ کا وعدہ یقیناً برحق ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے۔‘‘(فاطر:5)

حدیث شریف میں ہے: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آخرت کی تیاری کرے اور عاجز وہ ہے جو خواہشات نفس کا اسیر ہو کر رہ گیا اور اللہ سے آرزوئیں لگائے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس wبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم e نے فرمایا: ’’بلاشبہ فرشتہ انسان کے دل میں نیک خیال ڈالتا ہے، وہ اس کے دل میں اللہ کے وعدوں کی تصدیق اور حق کی تائید کا خیال ڈالتا ہے اور شیطان بھی ایک وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ اس کے دل میں اللہ کے وعدے جھٹلانے اور حق کو جھٹلانے کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ مسلمان شخص کو چاہیے کہ وہ اپنا محاسبہ کرتا رہے، اپنے نفس کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے، شیطان کے حیلوں سے بچے، خواہش نفس سے رکے اور دنیا سے دھوکہ نہ کھائے کیونکہ دنیا کا مال و متاع بہت حقیر ہے۔

بندگانِ الٰہی! ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

بندگانِ خدا

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیe پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘(الاحزاب:56)

رسول اللہ eکا فرمان ہے: ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، بدلے میں اللہ تعالیٰ اسے دس رحمتوں سے نوازتا ہے۔‘‘

چنانچہ آپ لوگ ساری مخلوقات کے سردار اور نبیوں کے امام eپر درود و سلام پڑھو۔ اے اللہ! حضرت محمد eاور ان کی آل پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم uاور ان کی آل کو رحمت سے نوازا تھا، بے شک تو ہی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! سیدنا محمد eاور ان کی آل پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم uاور ان کی آل کو برکتوں سے نوازا تھا۔ بے شک تو ہی تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے اور بہت زیادہ سلامتی نازل فرما۔

اے اللہ! نبی کریم eکے تمام صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین اور قیامت تک ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا! اے اللہ! تجھے تیری رحمت اور فضل و کرم کا واسطہ ہے کہ ان پاک باز ہستیوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسوں سے بھی راضی ہو جا!

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے رب ذو الجلال! اپنے اور دین کے دشمنوں کو ہلاک فرما!

اے اللہ! ہم تجھ سے ساری خیر کا سوال کرتے ہیں، جلد آنے والی خیر کا، دیر سے آنے والی خیر کا، اس خیر کا جو ہمارے علم میں ہے اور اس خیر کا جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔ ہر برائی سے تیری پناہ میں آتے ہیں، جلد آنے والے شر سے، دیر سے آنے والے شر سے، اس شر سے جس کا ہمیں علم ہے اور اس شر سے جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔

اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا اور جنت سے قریب کرنے والے اقوال واعمال کا سوال کرتے ہیں، جہنم سے اور جہنم کے قریب کرنے والے اقوال واعمال سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

اے اللہ! اے رب ذو الجلال! ہمارا خاتمہ نیک اعمال پر فرما۔ اپنی رحمت فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

اے اللہ! ہمارے نفسوں کو پاک فرما! انہیں طہارت اور تقویٰ نصیب فرما!تو ہی بہترین طریقے سے پاک کرنے والا ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے نفع بخش علم اور نیک اعمال کا سوال کرتے ہیں۔

اے اللہ! ہمارے اور مسلمانوں کے فوت شدگان کی مغفرت فرما!

اے اللہ! زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور عورتوں، مؤمن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما!  اپنا رحم فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

اے اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ نصیب فرما!

اے اللہ! مسلمانوں کی مصیبتیں آسان فرما!  اے اللہ! مسلمانوں کی مصیبتیں آسان فرما! اے پروردگار عالم! مسلمانوں پر آنے والی سختیاں دور فرما!اے اللہ! ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ انہیں اکٹھا فرما اور انہیں حق پر اکٹھا فرما!اپنی رحمت فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے!

 اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے رب ذو الاجلال! ہمیں لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے حوالے نہ فرما!

اے اللہ! ہمیں حق کی پہچان نصیب فرما اور اسے اپنانے کی توفیق عطا فرما! باطل کی پہچان بھی نصیب فرما اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما! اسے ہمارے لیے غیر واضح نہ فرما، کہیں ہم گمراہ نہ ہو جائیں۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے رب ذو الجلال!

اے اللہ! پریشان حال مسلمانون کی پریشانی دور فرما! اے اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں آسان فرما! اے اللہ! ہمارے اور مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما! اے اللہ! ہمارے اور مسلمانون کے بیماروں کو شفا عطا فرما!

اے اللہ! اے پروردگار عالم! شیطان سے اور اس کی نسل سے اور اس کے دوستوں سے ہمیں اور ہماری نسلوں کو محفوظ فرما! یقینًا! تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اے اللہ! اے رب ذو الجلال! اے اللہ !ہر برائی سے ہمارے ملک کی حفاظت فرما! ہمارے سپاہیوں کی حفاظت فرما! یقینًا! تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اے اللہ! اے رب ذو الجلال! ہمارے ملک کو ہر طرح کی برائی اور دشمنوں کی چالوں سے محفوظ فرما!

اے اللہ! خادم حرمین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! اسے ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما! اس کے سارے کام اپنے خوشی کے مطابق بنا۔ اے پروردگار عالم! ہر خیر میں اس کی معاونت فرما! اے اللہ! اسے اچھے خیالات سجھا او رنیک اعمال کی توفیق عطا فرما! نیکی کے ہر کام میں ان کی مدد فرما! یقینًا! تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اے اللہ! ولی عہد کو بھی ان ہی کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! اسے ہدایت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور ان کے تمام اعمال اپنی خوشنودی کے مطابق بنا۔ اے اللہ! اسے درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کے اعمال اپنی رضا کے مطابق بنا۔ یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! دونوں سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا!

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘ (بقرۃ: 201)

بندگانِ الٰہی:

’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو ۔‘‘(النحل:90) اللہ کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر بلند تر ہے اور اللہ آپ کے اعمال سے با خبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

راہِ حق سے ہٹانے والے عوامل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں