37

زبان کی آفتوں سے بچیے-خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن البعیجان، حفظہ اللہ، نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا عنوان تھا: ’’زبان کی آفتوں سے بچیے’‘، جس میں آپ نے زبان کے بارے میں بات کی، جو کہ گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، مگر اس کی نیکیاں اور برائیاں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ آپ نے لوگوں کی عزتوں پر حملے کرنے اور جھوٹی خبریں پھیلانے سے خبردار کیا۔ بیان کیا کہ مسلمانوں کے بارے میں جھوٹی خبریں پھلانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب الیم کی نوید سنائی ہے۔

پہلا خطبہ
الحمد للہ! ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا فرمایا، اسے دوسری مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی، اسے سوچنے اور سمجھنے کے لیے عقل دی اور احکام کے لاگو ہونے میں عقل کی درستی کو شرط ٹھہرایا۔ اسے ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے زبان عطا فرمائی اور اسے بہت کچھ سکھایا۔ وہ انتہائی پاکیزہ ہے، اسی نے انسان کو بنایا اور اس کی صورت درست فرمائی۔ اللہ بہت پاکیزہ ہے، وہ بہترین خالق ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ گواہ، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ حق اور سچائی کا پیغام لے کر آئے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔
بعدازاں!
بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، بہترین طریقہ نبی اکرم، محمد بن عبد اللہ ﷺ کا طریقہ ہے۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لیجاتی ہے۔
اللہ کے بندو!
میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں، یہی اللہ تعالیٰ کی نصیحت ہے جو اُس نے اگلوں اور پچھلوں کو فرمائی ہے۔ ﴿جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو﴾ [النساء: 131]۔
اے مسلمانو!
اعضائے انسانی کے زخم بڑے گہرے ہوئے ہیں اور نفس پر اِن کے دیر پا اور شدید اثرات ہوتے ہیں۔
تلوار سے لگنے والے زخم تو بھر جاتے ہیں
مگر زبان سے لگنے والے زخم کبھی نہیں بھرتے

زبان، بیان اور ما فی الضمیر سب کے سامنے لانے والا آلہ ہے، یہ دل کا ترجمان ہے۔ اس کا جحم بہت چھوٹا ہے، مگر اس کی نیکیاں اور برائیاں بہٹ بڑی ہیں۔ اسی سے کفر اور ایمان سے پردہ ہٹتا ہے۔ اسی پر نیکی اور نافرمانی کی انتہا ہوتی ہے۔ زبان کی نیکی کا میدان بہت بڑا ہے اور جب یہ برائی پر آ جائے تو یہ بہت لمبی اور بے لگام ہو جاتی ہے۔ اِسی سے تہمتیں پھیلتی ہیں، پاکیزہ اور بے خبر مؤمن عورتوں پر الزام لگتے ہیں، فتنے اور لڑائیاں برپا ہوتی ہیں، پردوں میں چھپے راز فاش ہوتے ہیں اور گھروں کی حرمتیں پامال ہوتی ہیں۔ اسی کی وجہ سے فتنے، برائیاں اور غم دلوں میں جگہ لیتے ہیں۔
اِسی سے گالیاں دی جاتی ہیں، نا زیبا اشارے، چغلی اور طعنہ زنی ہوتی ہے۔ افواہیں پھیلتی ہیں، غیبت ہوتی ہے، فحش کالیاں دی جاتی ہیں، برے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور طعنے دیے جاتے ہیں۔ زبان بولتے بولتے کبھی نہیں تھکتی اور ہلتے ہلتے کبھی نہیں اکتاتی۔
یاد رکھیے کہ اس کی ہر حرکت ایک کتاب میں محفوظ ہو رہی ہے اور جزا کے دن اس کی ہر حرکت کا حساب ہو گا۔ ﴿کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو﴾ [ق: 18]۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: «معاذ! اسے روک کر رکھنا»معاذ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا زبان سے کی جانے والی باتوں کی بھی پکڑ ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «تیرے ماں تجھے گم پائے! زبان کی کمائی سے علاوہ اور کونسی چیز ہے جو لوگوں کو منہ کے بل یا سر کے بل جہنم میں گرائے گی؟»۔
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «بندہ زبان سے ایک لفظ نکالتا ہے، جس کی وجہ وہ جہنم مشرق اور مغرب کے فاصلے کے برابر دھنس جاتا ہے»۔
دوسری حدیث میں سیدنا انس بیان کرتے ہیں: جنگ احد میں ایک لڑکا شہید ہو گیا، دیکھا تو اس نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا۔ اس کے ماں نے اس کے منہ سے مٹی صاف کی اور کہا: بیٹا! تجھے جنت کی مبارک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «آپ کو کیا معلوم کہ یہ جنت ہی میں جائے گا! ہو سکتا ہے وہ غیر متعلقہ چیزوں میں بولتا ہو»۔
ایک روز ابن مسعود صفا پر چڑھے، اپنی زبان کو پکڑ کر کہنے لگے: ’’اے میری زبان! خیر کی بات کرو گی تو فائدہ پاؤ گی، برے الفاظ، ندامت کا شکار ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دو!‘‘پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «آدم کی اولاد کے زیادہ تر گناہ زبان ہی کے ہوں گے»۔
اللہ کے بندو!
انسان کے برے ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ مسلمان کا خون، مال اور آبرو دوسرے مسلمان کے لیے انتہائی محترم ہیں۔
مسلمان بھائی کی موجودگی میں اگر اُس کی برائی کی جائے تو یہ اُسے گالی دینے کے برابر ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کی جائے، چاہے وہ برائی اس کی جسمانی صفت کی ہو، دینی حوالے سے ہو، اخلاق کی ہو، شکل وصورت کی ہو، مال کی ہو، اولاد کی ہو، بیوی کی ہو، لباس کی ہو، حرکت کی ہو، چاہے وہ لفظوں سے ہو، اشارے سے ہو، کتابت سے ہو یا کسی کہانی کے ذریعے ہو، تو اگر وہ برائی مبنی بر حقیقت ہو تو غیبت ہو گی۔ اگر جھوٹی ہو تو غیبت بھی ہو گی، جھوٹ بھی اور بہتان بھی۔
اللہ کے بندو!
سود کی بہتّر قسمیں ہیں۔ سب سے ہلکا سود اتنا بُرا ہے جتنا اپنی ماں سے زنا کرنا۔ سود کا ایک درہم چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی بُرا ہے۔ سود کی بد ترین صورت یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کیا جائے۔
اے مسلمانو!
زبان کی بدترین آفتوں، برائیوں، ہتھکنڈوں اور خطروں میں ایک یہ ہے کہ جھوٹی خبریں لوگوں میں پھیلائی جایں، ہہگامہ پرور خبریں عام کی جائیں، خود ساختہ جھوٹ گھڑے جائیں، مسلمانوں کا باہمی اعتماد اور بھروسہ ختم کیا جائے، تاکہ لوگوں میں بدگمانی پھیل جائے، بھائی چارے کا صاف پانی گدلا جائے، وحدت پاش پاش ہو جائے، یک جانی ختم ہو جائے اور امن وامان ختم ہو جائے۔
جھوٹی افواہوں کے وجہ سے کتنے بے گناہ پریشان ہوئے، کتنے عظیم لوگوں کی ہمتیں ٹوٹیں، کتنے تعلق بگڑے، کتنے جرائم ہوئے، کتنی دوستیاں اور رابطے ٹوٹے، کتنے معاشرے برباد ہوئے، کتنے خاندان بکھرے، کتنے پیارے الگ ہوئے، کتنے مال ضائع ہوئے، کتنے اوقات رایگان گئے، کتنے دل غمزدہ ہوئے، کتنے سینوں میں آگ لگی، کتنی حسرتیں پھیلیں اور کتنی قومیں ترقی سے محروم رہیں!!!
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں﴾ [الحجرات: 12]، ایک اور جگہ فرمایا: ﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو﴾ [الحجرات: 6]۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «جو کسی مسلمان کے متعلق ایسی بات کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے، تو اُسے اللہ تعالیٰ جہنمیون کے زخموں کی پیپ اور گندگی ضرور چکھائے گا»۔
اسی طرح سیدنا سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «جو کسی مسلمان پر تہمت لگاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اس وقت تک جہنم کے پلصراط پر روکے رکھے گا جب تک اس کی سزا پوری نہ ہو جائے»۔
اے مسلمانو!
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عزتوں پر حملہ کرنا بھی اُن کی جانوں اور اموال کی طرح حرام ٹھہرایا ہے۔ بلکہ مال اور جان کے ذریعے آبرو کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ جھوٹی خبریں بنا کر انہیں دنیا میں عام کر کے، مسلمانوں عزتوں کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر کے، افترا پردازیاں، جھوٹ، بہتان اور تہمتیں پھیلا کر مسلمانوں کی عزتیں روندھنا، ان کا مذاق اڑانا، سوشل میڈیا کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے فتنے اور زہر آلود جملے پھیلانا مسلمانون کی عزتوں پر حملے کی بدترین شکل، ہلاکت انگیز جرم اور گمراہ کن فتنہ ہے۔ ہر مسلمان کو اس برائی سے بچنا چاہیے۔
سیدنا ابو الدرداء رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: «جو دنیا میں کسی مسلمان کو رسوا کرنے کے لیے اس کے متعلق برائی بکتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں ضرور جہونکے گا، یہاں تک کہ وہ اس لفظ سے پاک ہو جائے»، اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔
سنو! جو جھوٹی خبر پھیلاتا ہے، تو گویا کہ اس نے اس کی ابتدا کی ہے۔ اسے اپنا گناہ تو ملے گا ہی، آخر تک ہر پھیلانے والے کا گنا بھی اسے کے سر ہو گا۔
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «انسان کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے» ، اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے! ﴿(ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی﴾ [النور: 15]۔

دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی دین اسلام کے ذریعے لوگوں کے خون، عزتیں اور مال محفوظ فرمائے ہیں۔ اُن پر قول یا عمل سے حملہ کرنے والوں کو خبردار فرمایا ہے۔ اسی نے مسلمانوں کو بھائی بھائی بنایا ہے۔ ان میں مودت اور رحمت رکھی ہے۔
اے مسلمانو!
حرام کاموں کی جسارت کرنا اور لوگوں کی برائیوں کی کھوج لگانا بہت بڑی مصیبت اور آزمائیش ہے، بہت بڑا فتنہ اور برائی ہے۔ اس کا شکار ہو جانے سے ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
سیدنا ابو بَرْزَہ اسلمی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اے وہ لوگو! جن کے دل میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا مگر وہ زبان سے ایمان کا دعویٰ تے ہیں! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو، ان کی برائیوں کی کھوج نہ لگاؤ، جو دوسروں کی برائیوں کے پیچھے پڑ جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کی برائی کو کھول دے گا اور پھر اسے اپنے ہی گھر میں رسوا کر کے چھوڑے گا»، اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
اپنی آبرو کی حفاظت کرو، اپنی زبانیں محفوظ رکھو۔
اللہ کے بندو!
مسلمان کی عزت اور آبرو کی بڑی قدر اور اہمیت ہے، شریعت نے اس کی حفاظت کی ہے، اس پر حملہ کرنے والے کو وعید سنائی ہے۔ دوسروں کی عزتوں پر حملہ کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی عزتیں پامال کرنے سے بچے۔
عبد اللہ بن عمر نے ایک دن کعبے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: “تیری عزت اور قدر کتنی زیادہ ہے! اللہ کے یہاں مسلمان کی قدر تجھ سے بھی زیادہ ہے”۔
سیدنا ابو بکرہ بیان کرتے ہیں: بڑی عید کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے خطبے میں ارشاد فرمایا: «کیا تم جانتے ہو، یہ کون سا دن ہے؟»، ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ اس دن کو کوئی نیا نام دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: «کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟»، ہم نے کہا: جی ہاں! یہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «یہ کون سا مہینہ ہے؟»، ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ اس دن کو کوئی نیا نام دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: «کیا یہ ذو الحجہ نہیں ہے؟»، ہم نے کہا: جی ہاں! یہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «یہ کون سا شہر ہے؟»، ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ اس دن کو کوئی نیا نام دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: «کیا یہ اللہ کا محترم شہر نہیں ہے؟»، ہم نے کہا: جی ہاں! یہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «جب تک تم اپنے پروردگار سے نہیں مل جاتے، تمہارے خون، مال، عزت اور آبرو ایک دوسرے کے لیے یوں ہی ہی محترم ہیں جیسے یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں محترم ہے۔ کیا میں نے بیغام پہنچا دیا؟»، لوگوں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ! تو گواہ رہنا، جو یہاں موجود ہے، وہ غیر حاضر لوگوں کو بتا دے۔ ہو سکتا ہے جسے بتایا جائے وہ یہاں سننے والوں سے زیادہ سمجھ رکھنے والا ہو۔ میرے بعد کافر نہ بن جانا، ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنے لگنا۔»، اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے بندو!
نیکیاں کرنے اور بھلائیاں کرنے کی نسبت برائیوں سے بچنا اور حرام چیزوں سے دور رہنا زیادہ اہم ہے۔ حقیقی مُفْلِس وہ ہے خوب محنت کر کے کمائی کرتا ہے مگر اپنی نادانی کی وجہ سے ساری جمع پونجی ضائع کر دیتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا تمہیں معلوم ہے کہ مُفْلِس کون ہے؟»، لوگوں نے کہا: ہمارا ہاں تو مفلس وہی ہوتا ہے جس کے پاس مال ہو نہ سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اُس نے اِسے گالی دی ہوگی، اُس پر الزام تراشی کی ہو گی، اُس کا مال کھایا ہو گا، اُس کی خون ریزی کی ہو گی اور اسے مارا ہو گا۔ وہ اِسے بھی اپنی نیکیاں دے گا، اُسے بھی اپنی نیکیاں دے گا، پھر اگر حقوق ادا ہونے سے پہلے ہی نکیاں ختم ہو گئیں تو اُن کے گناہ اٹھا کر اُس کے سر پر ڈال دیے جائے گے اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا»۔
اے مسلمانو!
سعودی عرب سرزمینِ حرمین ہے، نزولِ وحی کا مقام اور مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ مسلمانوں کے دل اسی سے جڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے دین کے آغاز کے لیے منتخب فرمایا، یہ دعوت کا منبر ہے اور موحدوں کا گڑھ ہے۔ اسی سے دین اسلام کی کرنیں پھیلیں، اسی نے وسطیت، سلامتی عِلم وایمان کی بنیادیں مضبوط کیں، اسی نے ہر آنے والے مسلمان کو بالکل ماں کی طرح اپنی باہوں میں نرمی اور شفقت سے رکھا۔
اللہ تعالیٰ اس ملک کے حکمرانوں کو جزائے خیر عطا فرمائے!
اس ملک کے خلاف جو جھوٹی خبریں اور ہنگامہ پرور افواہیں حسد کرنے والے اور کینہ پرور دشمن پھیلا رہے ہیں، یہ بھی ایک بد ترین حملہ ہے جو گھات لگائے دشمن امت پر کر رہے ہیں۔
ہم اللہ کے سامنے گڑگراتے ہیں اور اُسے اِن کے سامنے کرتے ہیں۔
اے اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما! اس کی نگہبانی فرما۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! اسے اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما!
اے اللہ! اے عزت اور طاقت والے! جو اس ملک کا بدخواہ ہو، اسے خود ہی میں مشغول کر دے اور اسی کی چال میں اُسے ہلاک کر دے۔
اے اللہ! ہمارے حکمران، خادم حرمین کو اپنی توفیق عطا فرما! اس کی تائید فرما! اے اللہ! اے دعا سننے والے! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اپنے توحید پرست بندوں کو نصرت عطا فرما!
اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما!
اے اللہ! جو خیر کثیر تو نے نازل فرمائی ہے، اس پر ہم تیری حمد وثنا بیان کرتے ہیں۔ اے اللہ! اسے ہماری قوت کا ذریعہ بنا اور ایک مدت تک رسائی کا ذریعہ بنا دے۔
اللہ کے بندو!
درود وسلام بھیجو اس ہستی پر کہ جن پر درود وسلام بھیجنے کا حکم تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرمایا: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا! تو پڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا! تو پڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے، تمام صحابہ کرام سے اور اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہم سب سے راضی ہو جا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں