41

تجدید کے اصول وضوابط

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس حفظہ اللہ
جمعۃ المبارک 10 صفر 1440ھ بمطابق 19 اکتوبر 2018ء
عنوان: تجدید کے اصول وضوابط
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ:
ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے معافی کا سوال کرتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس کی کامل نعمتوں، اور حیرت انگیز نشانیوں پر اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔
اللہ کی ایسی تعریف بیان کرتے ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں۔ چھپی ہوئی چیزیں بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں اور ظاہر چیزیں بھی اسی کی تخلیق ہیں۔
ہر صبح کی تازہ ہوا کے ساتھ اور بادل سے برسنے والے ہر قطرے کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوتی رہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے ہمیں اپنی واضح شریعت سے مختص فرمایا ہے، یہ شریعت اپنی عظمت اور بلندی کی وجہ سے جہانوں میں پھیل گئی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہذیبوں کی تعمیر وترقی کا راستہ واضح فرمایا- اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت والی آل، بلندی میں ثریا کے تاروں کو چھونے والے چنیدہ اور نیک صحابہ کرام پر، تابعین اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی پاکیزہ بابرکت اور بے انتہا سلامتی نازل ہوتی رہے۔
بعد ازاں!
اللہ کے بندو! پرہیزگاری کا طریقہ اپناؤ۔ یہی طریقہ دنیا و آخرت کا بہترین سرمایہ ہے۔
’’کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں‘‘
(النور: 52)
اگر اس دنیا سے تم تک تقویٰ اپنائے بغیر ہی گزر گئے اور پھر آخرت میں تمھیں ایسے لوگ ملے جنھوں نے اس دنیا میں پرہیزگاری اختیار کی تھی، تو تمھیں شدید ندامت ہو گی کہ تم ان جیسے نہیں بن سکے اور ان کی طرح اپنی آخرت کی تیاری نہیں کر سکے۔
اے مسلمانو!
دانش مندوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ بڑی بڑی اور طاقتور تہذیبوں نے بھی یہ گواہی دی ہے کہ ہماری واضح اور روشن اسلامی شریعت نے دنیا کی ظلمات کو نور میں بدل دیا ہے۔ دنیا والوں کے سخت حسد اور شدید کینے کے مقابلے میں بھی اپنے واضح اور ناقابل تبدیل اصولوں کی بدولت قائم رہنے میں کامیاب رہی ہے اور دنیا والوں میں اپنی عظیم رحمت اور بلند اخلاق کا بیج بونے میں کامیاب ہوئی ہے۔ یہ شریعت، انتہائی کشادہ اور وسیع شریعت ہے۔ اس کے پھول اور پتے انتہائی خوشبودار ہیں، شمولیت اور کمال اسکی خاصیتیں ہیں اور یہ لوگوں کی دنیا اور آخرت کے معاملات کو سدھارتی ہے۔ احکامِ شریعت تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے دینِ قویم کا عظیم اصول ہے۔ اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے نبیؐ، پھر ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے‘‘
(الجاثیۃ: 18)
اے مسلمانو!
ہماری واضح اور پرنور شریعت، دنیا وآخرت کے حوالے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے جامع اصولوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کی نصوص، اس کے مقاصد، اس کی حکمتوں اور اس کے شاندار قواعد کی بدولت ہی دنیا میں عدل، حکمت، نرمی اور آسانی پھیلی ہے۔ اس میں اجتہادی مسائل اور عصر جدید میں پیش آنے والے نئے مسائل کے احکام بھی موجود ہیں۔ شریعت نے اِن احکام کو بھی واضح کیا ہے اور ایک میزانِ دقیق، طے شدہ معیار اور واضح اصولوں کے مطابق ان میں بھی حلال وحرام کو واضح فرمایا ہے۔ انہی اصولوں پر علمائے اسلام اور مجتہدین امت عمل کرتے رہے ہیں اور انہی اصولوں کی بدولت معاشروں اور افراد کی فلاح وبہبود ممکن ہو سکی ہے، انہیں اپنا کر اجتہادی اور جدید مسائل میں صحیح اور درست رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ شریعت کوئی جامد شریعت نہیں ہے، اس کے احکام خشک، یا بہتری اور ترقی سے مستثنی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ انتہائی لچک دار اور ہر دم ترقی کرنے والی شریعت ہے۔ یہ عصر حاضر کے تقاضوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھلنے کے خلاف ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ مسائل اور نتائج میں کمال توازن برقرار رکھتی ہے، طے شدہ اصولوں اور قابل ترمیم احکام کو مدنظر رکھتی ہے، اصول پرستی اور تجدید پر بیک وقت عمل کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تجدید بڑا پرکشش لفظ اور معنی خیر کلمہ ہے۔ اس پر عمل کرنے کے لیے بہت بڑی عقل کی ضرورت ہے۔ آیات و احادیث سے احکام نکالنے میں کمال مہارت درکار ہے، مسائل کی فرعی تقسیم، چھوٹے مسائل کو اصولی مسائل کے ساتھ ملانے، فرعی مسائل کو طہ شدہ اصولوں پر ڈھالنے، فقہی اصولوں پر مسائل کو جانچنے اور ہر مسئلے کو شریعت کے مقاصد کے مطابق پرکھنے کی کمال صلاحیت درکار ہے، تاکہ کسی بھی مسئلہ کے متعلق صحیح شرعی حکم صادر کیا جاسکے۔
امام ابو داؤد اور امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امت کے لیے ہر ایک سو سال کے بعد ایسا شخص ضرور بھیجتا ہے جو اس کے دین کی تجدید کردیتا ہے۔
اے مومنو!
تجدید کے روشن اور جگمگاتے اصول اور پر نور ضوابط ہمارے دین کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین اصول یہ ہے کہ تجدید کتاب و سنت کے کسی حصے کے خلاف نہ ہو اور شریعت کے مقاصد میں سے کسی مقصد کی زد پر نہ ہو، کیونکہ تجدید میں اگر کتاب وسنت کی حفاظت کا بھی خیال نہ رکھا گیا اور مقاصد شریعت کو مد نظر نہ رکھا گیا، تو شریعت کی بقا بھی ممکن نہیں رہے گی۔ مقاصد شریعت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ شریعت انہی کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔
امام ابن عاشور علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: شریعت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کا نظام صحیح طرح چل سکے اور لوگوں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جن کی بدولت وہ ہلاکت اور فساد سے محفوظ رہ سکیں۔
تجدید کے بنیادی اصول میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں اہل علم اور اہل حل وعقد ہی ہاتھ ڈالیں، کیونکہ شریعت کے مقاصد کو سمجھنے اور ان کے مطابق مسائل کو ڈھالنے کے لیے ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جو اجتہاد میں کمال کی مہارت رکھتے ہوں، دین کی بنیادوں کو ٹھیک طرح سمجھتے ہوں، دین کے اصولوں کو خوب جانتے ہوں اور ہر مسئلے کو شریعت اسلامیہ کے میزان میں ڈال کر جانچ سکتے ہوں۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ تجدید صرف فرعی مسائل میں، دین کے چھوٹے حصوں میں، شرعی مقاصد تک پہنچنے کے طریقوں میں، لفظوں کے چناؤ اور جملے کی ترتیب میں اور اس سے ملتے جلتے احکام میں ہو۔ شرعی مسائل کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ان میں بڑی لچک پائی جاتی ہے اور یہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں قابل عمل ہوتے ہیں۔ ان میں ہر انسان کے حالات، زندگی کے بدلتے احوال، معاشروں کے اختلاف، رسم و رواج کے تنوع اور خصوصی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہوتا ہے۔ شریعت بھی یہی سمجھتی ہے اور عقلی تقاضا بھی یہی ہے کہ شریعت میں ان تمام چیزوں کا خیال رکھا جائے۔
تجدید کے اصول میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ شریعت کے کسی اہم مقصد کی تکمیل کے لیے کی جائے یا کسی ایسی برائی کو ٹالنے کے لیے کی جائے جس کا آنا یا تو یقینی ہو یا اس کا احتمال بہت زیادہ ہو۔ کیونکہ یہ شریعت کے احکام لوگوں کی دنیا وآخرت سنوارنے کے لیے آئے ہیں۔
صحابہ کرام نے بھی اپنے دور میں پیش آنے والے نئے مسائل میں اجتہاد کیا اور شریعت کے مقاصد کو دیکھتے ہوئے جدید مسائل کے احکام وضع کیے۔ مثال کے طور پر نقصان کی صورت میں صنعت کاروں کو ذمہ دار ٹھہرانا، دفتری رجسٹر بنانا اور قرآن کریم کو ایک ہی کتاب میں جمع کرنا۔ یہ کام صحابہ نے اسی لیے کیے تھے کہ یہ شریعت کی روح اور اس کے مقاصد سے متصادم نہیں ہیں بلکہ یہ اس کے عین مطابق ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تجدید، خواہش، ذاتی رغبت، پسند ناپسند اور انفرادی آراء کی بنا پر نہیں کی جاتی۔
اسی طرح تجدید کے لیے ضروری ہے کہ کتاب وسنت کی صحیح اور درست سمجھ کو غلط تشریحات اور تاویلات سے ممتاز کیا جائے۔ آیات واحادیث میں سے شرعی احکام کو اخذ کرنے کے طریقہ کار میں سلف صالحین کے طریقے پر چلا جائے اور اس طریقے کے خلاف جانے والے تمام طریقوں کو شرعی نظر سے دیکھ کر خوب پرکھا جائے اور شریعت سے قریب ترین رائے کو راجح قرار دیا جائے۔
اسی طرح اقدار کے مقاصد کو بھی شریعت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور ان کے مفید یا ضرر رساں ہونے کا فیصلہ خواہشاتِ نفس کے مطابق نہیں بلکہ شریعت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق کرنا چاہیے۔
امام شاطبی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جن مصلحتوں سے لوگوں کی زندگی درست ہوتی ہے، انہیں اِن کے خالق اور موجد کے سوا کوئی صحیح طرح نہیں جان سکتا۔ انسان کو اِن مصلحتوں کے بہت تھوڑے پہلوؤں کا علم ہوتا ہے اور جو پہلو اس سے پوشیدہ ہوتے ہیں، وہ معلوم پہلووں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں، جو ایک کام کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ کبھی بھی اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے یا اپنی محنت کا پھل کبھی کھا نہیں پاتے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے، تو ہمیں چاہئے کہ جس چیز کو شریعت نے مصلحت تسلیم کیا ہے، ہم بھی اسی کو مصلحت تسلیم کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے ہی مصلحت حاصل ہو سکتی ہے۔
اے امت اسلام!
جہاں تک اختلافی مسائل کا معاملہ ہے، تو ان کے حوالے سے ہمارے دل کشادہ ہونے چاہیں، اختلاف کرنے والے اور جن سے اختلاف کیا جائے، دونوں کو رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، دوسرے کو غلط کہنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ شریعت میں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ جس معاملے میں اختلاف کی گنجائش موجود ہو ان میں اختلاف کرنے والے کو کبھی غلط نہیں کہا جاتا۔ فتویٰ زمانے، علاقے، معاشرے، حالات، عادات وتقالید اور افراد کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مگر حکمران کا حکم اختلاف کو ختم کردیتا ہے اور اس کا حکم مصلحت کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
اے اہل ایمان!
ان اہم اصولوں کو سمجھنے کے بعد ہمیں چاہیے کہ اسلام کی روشن تہذیب کو اپنانے کی کوشش کریں، جو کہ انسان کی تہذیب اور لوگوں کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ امت کے علماء، حکمرانوں اور دانشمندوں کو دعوت دیں کہ وہ دین کے طے شدہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے احکامِ دین کی تجدید کے لیے چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیں۔ سب مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دیں کہ جس کی بدولت امت کو فتنوں سے بچایا جا سکے، اس کے مسائل حل کیے جا سکیں اور اس کی نسل کی جانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب عالم اسلام کے کچھ علاقوں سے جنگوں اور لڑائیوں کے اسباب کو ختم کر دیا جائے گا۔ فرقہ واریت جیسی برائی اور علاقائی تعصب جیسی مذموم عادت کو جڑھ سے اکھیڑ دیا جائے گا۔ اکثر جھگڑوں، لڑائیوں، بدترین فتنوں اور امت میں عدم استحکام کے پھلاؤ کا سبب ایسے ہی تعصب ہوتے ہیں۔
اسلامی شریعت ہدایت اور استقامت کی شریعت ہے، وسطیت اور اعتدال کی شریعت ہے، رحمت اور رواداری کی شریعت ہے، امن اور استحکام کی شریعت ہے، سکون اور سلامتی کی شریعت ہے۔ فرمان الہی ہے:
’’یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو‘‘
(الانعام: 153)
اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ گھات لگا کر بیٹھے سخت دشمنوں سے اور چالبازیاں کرنے والے دشمنان دین سے ہماری امت کی حفاظت فرمائے! یقینًا! وہ دعا سننے والا اور آرزویں پوری کرنے والا ہے!
میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لئے اور آپ کے لئے اللہ تعالی سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینا! وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالی کے لئے ہے۔ اسی نے ہمیں بے انتہا عظیم نعمتوں سے نوازا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ انتہائی پاکیزہ، عظمت اور جلالت والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اہل دنیا میں سے رسالت اور بلند مقام کے لیے چنیدہ نبی ہیں۔ اے اللہ! جب تک سورج اور چاند باقی ہیں تب تک ختم نہ ہونے والی رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوتی رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سب سے آگے نکلنے والے اہل بیت پر، آپ کی سنت پر ثابت قدم رہنے والے صحابہ کرام پر، تابعین پر قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعد ازاں!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور دین کی مضبوط رسی کو سختی سے تھام لو۔ گمراہ کن فتنوں سے بچو۔ ایسا کرو گے تو عزت کے بلند ترین مقام کو پا لو گے۔ مسلمان جماعت سے جڑے رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور جو جماعت سے الگ ہو جاتا ہے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔
اے امت ایمان!
اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے اور ان کا ذکر کرنا چاہیے۔ چناچہ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس ملک کی صورت میں ہمیں ایک شاندار نعمت عطا فرمائی ہے جو شرعی، اخلاقی اور تہذیبی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ دوسرے ملکوں کے لیے ایک شاندار نمونہ اور اچھے اخلاق پر قائم رہنے میں ایک بہترین مثال ہے۔ اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کا ساتھ دیں، تعمیر وترقی، اتحاد واتفاق اور اس کی تہذیب پر ہونے والے بدترین حملوں کا مقابلہ کرنے میں اس کے حکمرانوں اور اس کے علماء کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہی وہ ملک ہے جہاں حکمت کے ساتھ بھلائی کی دعوت دی جاتی ہے، یہاں نرمی بھی ہے، درست اور پاکیزہ طریقہ بھی ہے۔ منہجِ حق کی پیروی کا نتیجہ بھی یہی ظاہر ہوا ہے، یہاں بردباری اور علم کے راستے بھی روشن ہے۔
اس بابرکت ملک میں، بابرکت حکمرانوں بالخصوص با عزم وہمت، الہام اور اللہ کی رہنمائی پانے والے نوجوان ولی عہد کی سرپرستی میں، عوام کی ضروریات کو جانتے اور سمجھتے ہوئے اور انہیں اہمیت دیتے ہوئے تجدید کی جو لہر چلی ہے، اس کی بدولت یہ ملک ولی عہد کے شاندار وزن اور دور اندیش ترقیاتی منصوبوں کے راستے پر گامزن رہے گا، چاہے چیلینج بہت زیادہ یا دباؤ بہت شدید کیوں نہ ہو جائیں۔ اس تجدید کو روکنے اور اس ملک کو دھمکانے کی تمام کوششوں کو بالآخر مایوسی کا سامنا ہوگا، اور بین الاقوامی امن وامان پر اس کا الٹا اثر ہوگا۔
ہمارا یہ بابرکت ملک باعزت اور باوقار رہے گا، چاہے تہمتیں بڑھ جائیں یا جھوٹی خبریں پھیل جائیں، یا اس کے خلاف میڈیا میں مذموم حملے ہو جائیں۔ ان ساری چیزوں کے باوجود یا ملک اپنے اصول ومبادی پر ڈٹا رہے گا۔ اس کا بھروسہ صرف اور صرف اللہ تعالی پر ہے، اور اس کے بعد اسے اپنے حکمرانوں کی حکمت اور شہریوں کے اتحاد پر اعتماد ہے۔ ان امتیازات کی بدولت ان شاء اللہ یہ ملک ہر طرح کے جھوٹے دعووں اور تمام ناکام کوششوں کا مقابلہ کرے گا اور تاریخ اس کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ اس کے خلاف کی جانے والی ہر سازش، ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا تی ہے۔ یہ اُن کا قبلہ ہے۔ اُن کے حج اور عمرہ کی جگہ ہے۔ انکے دین کا مرکز ہے۔ ان کے دل بھی اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ہم انصاف پسند لوگوں کے موقف کو، عقل وحکمت پر مبنی بیانات کو سراہتے ہیں، جن میں ٹھہراؤ اور حق کا ساتھ دینے کاجذبہ نظر آتا ہے، جو مبنی بر حقیقت ہیں اور جن میں اندازوں اور گمان پرستی سے دوری نظر آتی ہے۔ ایسے انصاف پسند لوگ الزامات اور جھوٹی خبروں کی بنیاد پر کوئی موقف اختیار نہیں کرتے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘
(فاطر: 43)
اسی طرح فرمایا:
’’اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘
(یوسف: 21)
ایک اور جگہ فرمایا:
’’عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں‘‘
(منافقون: 8)
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! نبی مصطفیٰ اور رسول مجتبیٰ پر درود و سلام بھیجو۔ اللہ تعالی نے آپ کو اسی کا حکم دیا ہے۔ کلام پاک میں اس کا فرمان ہے:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
(الاحزاب: 56)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں دین اسلام لانے والے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور صحابہ کرام پر۔
اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں! یقینا تو بڑا قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں! یقینا تو بڑا قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔
اے اللہ! حق کے مطابق عدل کے فیصلے کرنے والے، بلند مقام اور عظیم مرتبے والے خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے، تمام صحابہ کرام سے، پاکیزہ امہات المؤمنین سے، تابعین سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی خاص رحمت فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ میں پروردگار عالم! اپنے فضل و کرم سے حق اور دین کا کلمہ بلند فرما۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما۔ ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام خادم حرمین کی تائید فرما۔ اے اللہ! اسے ان کا ملک کی توفیق عطا فرما جو ان سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لے جا۔ اسے نیک کابینہ عطا فرما، جو جو نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والی اور نیک کاموں میں مدد کرنے والی ہو۔ اے اللہ اس کے ولی عہد کو بھی خیر کے ہر کام کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! دونوں کو ایسے کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔
اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ انہیں اپنے نیک بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔
اے اللہ! مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما! اے اللہ! مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! ظالموں کے ظلم سے، کینہ رکھنے والے اور حملے کرنے والے دشمنوں سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما!
اے زندہ جاوید! فضل و کرم فرمانے والے! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہر جگہ مسلمانوں کی جانوں کی حفاظت فرما! ہر جگہ ان کے احوال درست فرما۔ اے عظیم فضل احسان والے! انہیں حق و سنت پر اکٹھا فرما۔
اے اللہ! ہم تجھ سے ساری خیر کا سوال کرتے ہیں! جلد آنے والی خیر کا، دیر سے آنے والی خیر کا، اس خیر کا جس کا ہمیں علم ہے اور اس فرقہ بھی جس کا ہمیں علم تک نہیں ہے۔ ہر برائی سے تیری پناہ لاتے ہیں ہے! جلد آنے والی ایسے اور دیر سے آنے والے بڑائی سے! اس برای سے جس کا ہمیں علم ہے اور اس برائی سے جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔
اے اللہ! مسلمان مردوں اور عورتوں اور مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما! انہیں حق و ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ انہیں برائیوں اور ظاہر و باطن فتنوں سے محفوظ فرما۔
اے زندہ جاوید! تجھے تیری رحمت کا واسطہ ہے! ہمارے سارے معاملات سنبھال لے! اور ہمیں لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے حوالے یہ کسی اور مخلوق کے حوالے نہ کرنا۔ ہمارے تمام معاملات درست فرما۔
اے اللہ! ہمارے جوانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے جوانوں کی حفاظت فرما۔ ہماری سرحدوں کی حفاظت کرنا۔ ہمارے محافظوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اے رب ذوالجلال! ان کے فیصلے درست فرما اور انکے نشانے ٹھیک جگہ پر لگا۔ ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما، ان کے بیماروں کو تندرستی نصیب فرما، میں سلامتی اور فتح و نصرت کے ساتھ اپنے اپنے گھروں تک پہنچا۔
اے اللہ! بڑے لوگوں کی برائی سے، جانبازوں کی چالوں سے اور دن رات کے ہیر پھیر سے ہماری اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما! چال بازوں کی چالوں سے، کینہ پروروں کے کیلے سے، حسد کرنے والوں کے حسد سے اور ظلم و زیادتی کرنے والوں کے ظلم سے ہمیں محفوظ فرما۔
ہمیں اور مسلمانوں کو اذیت دینے سے نمٹنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘
(البقرۃ: 201)
اے اللہ! تو ہی اللہ ہے۔ تو بے نیاز ہے اور ہم سب پھیرو محتاج ہیں۔ ہم پر رحمتوں کی بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما! اے اللہ! ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ تو معاف کرنے والا ہے! ہم پر رحمت کی بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔
اے اللہ! ہم بھی تیری ہی مخلوق ہیں! ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل وکرم سے محروم نہ فرما۔
ہم اللہ سے معافی مانگتے ہیں! ہم اللہ سے معافی مانگتے ہیں! ہم اللہ سے معافی مانگتے ہیں! اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے! وہی زندہ جاوید ہے! آپ اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اے پروردگار! ہم سے قبول فرما! تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ہماری توبہ قبول فرما! تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے! ہمیں اور ہمارے والدین کو اور ہمارے اباو اجداد کو معاف فرما! تمام زندہ مردہ مسلمانوں کو معاف فرما۔ یقینا! تو قریب، سننے والا اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔
وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
ترجمہ: عاطف الیاس (ریسرچ سکالر پیغام ٹی وی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں